سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 253 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 253

سیرت المہدی 253 حصہ پنجم ہوا تھا اور ترشح ہو رہا تھا۔حضور نے پوچھا کہ ” تمہارا بچہ کہاں ہے؟ میں نے عرض کی کہ حضور خادمہ اپنے گھر لے گئی ہے۔حضور نے فرمایا کہ اور تو نے اس کو گھر لے جانے کی اجازت کیوں دی ؟ یہ لوگ گھر جا کر خود اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور بچوں کو زمین پر چھوڑ دیتے ہیں وہ بارش میں بھیگ رہا ہو گا۔“ حضور علیہ السلام نے ایک اور خادمہ سے فرمایا کہ ”جلدی جا کر اس کے بچہ کو لے آ۔‘ چنانچہ جب وہ عورت گئی تو دیکھا کہ وہ خود چکی پیس رہی تھی اور بچہ کو باہر زمین پر بارش میں بٹھایا ہوا تھا۔وہ خادمہ بھیگتے ہوئے بچہ کو اٹھا لائی تو ہم لوگ حیران ہوئے کہ جس طرح حضور نے فرمایا تھا کہ بچہ بارش میں بھیگ رہا ہوگا۔ویسا ہی ظہور میں آیا۔1446 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت ام ناصر صاحبہ حرم اول حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ و بنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور علیہ السلام مجھ پر نہایت مہربانی اور شفقت فرمایا کرتے تھے۔مجھے جس چیز کی ضرورت ہوتی حضور سے عرض کرتی حضور اس کو مہیا کر دیتے اور کبھی انکار نہ کرتے۔میرا اور سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا روز مرہ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد ایک دن میں اور ایک دن مبارکہ بیگم حضوڑ کے پاس جاتے اور کہتے کہ حضوڑ بھوک لگی ہے۔حضور کے سرہانے دو لکڑی کے بکس ہوتے تھے۔حضور چابی دے دیتے۔مٹھائی یا بسکٹ جو اس میں ہوتے تھے جس قدرضرورت ہوتی ہم نکال لیتے ، ہم کھانے والی دونوں ہوتیں تھیں مگر ہم تین یا چار یا چھ کے اندازہ کا نکال لیتیں اور حضور کو دکھا دیتیں تو حضور علیہ السلام نے کبھی نہیں کہا کہ زیادہ ہے اتنا کیا کروگی۔1447 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ جو الہام ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اس کی ایک قرآت یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا (یعنی بجائے نذیر ، نبی کا لفظ الہام میں ہے )۔1448 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور