سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 254
سیرت المہدی 254 حصہ پنجم علیہ السلام مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص نے سوال کیا کہ جبکہ اعمال محدود ہیں تو نجات ابدی کیونکر ہے؟ فرمایا کہ موت بندہ کے اپنے اختیار کی چیز نہیں ہے اگر وہ ہمیشہ زندہ رہتا تو اعمال کرتارہتا لیکن خدا نے اس کو موت دے دی۔یہ اختیار سے باہر ہے لہذا نجات ابدی ہے۔“ 1449 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ ”نبی جب مجلس میں بیٹھتا ہے تو گویا دکانِ عطاری کھولتا ہے ہر ایک کو (یعنی روحانی مریضوں کو ) مناسب حال نسخہ جات بتا تا ہے۔“ 1450 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور علیہ السلام نے مجھے فرمایا کہ ” طاعون کم سردی میں شروع ہوتی ہے اور جب طاعون کے آثار دیکھنا تو باہر چلی جانا۔“ میں نے عرض کی کہ حضور علیہ السلام میرے پاس باہر رہنے کا سامان نہیں ہے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”موٹے موٹے گدیلے بنا کر چلی جانا۔“ جب طاعون شروع ہوگئی تو میں ڈرتی تھی کہ حضور نے فرمایا تھا کہ ”باہر چلے جائیں لیکن میرے خاوند نے کہا کہ چونکہ ہمارے باہر جانے سے مسجد ویران ہو جائے گی اس لئے ہم نہیں جاتے۔تو خدا تعالیٰ نے حضرت صاحب کی معرفت میرے خاوند کو کچھ بتلا دیا اس لئے ہم باہر نہ گئے۔1451 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت نانی جان صاحبہ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے اور حضرت نانا جان صاحب کے لئے حضور علیہ السلام سے دعا کرایا کرتی تھیں نیز مولوی محمد علی صاحب جواب پیغامی ہیں ان کی بیوی جن کا نام ”فاطمہ تھا اپنے اور اپنی بیٹی رقیہ کے لئے دعا کرایا کرتی تھی۔مولوی فضل الدین صاحب بھی دعا کرایا کرتے تھے جو میرے شوہر ہیں۔جب وہ حضرت صاحب سے خاص محبت میں رخصت مانگا کرتے تھے تو حضور اجازت نہ دیا کرتے تھے ایک بار جس دن ہم نے جانا تھا تو حضور علیہ السلام کو ایک الہام ہوا کہ جو کہ خطرناک تھا۔حضور نے مجھے رقعہ لکھ کر دیا کہ مولوی صاحب کو دے آؤ۔میں نے رقعہ پہنچادیا اور مولوی صاحب سے کہا کہ مجھے بھی ایک رقعہ لکھ دو میں نے حضور کو دعا کے لئے دینا ہے۔