سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 252
سیرت المہدی 252 حصہ پنجم میں الفاظ کی روانی کا یہ حال تھا کہ ہر دو مولوی صاحبان موصوف باوجود تحریری وعلمی قابلیت کے پیچھے رہے جاتے تھے حتی کہ بعض دفعہ فرمایا کہ جلدی کرو۔جلدی کرو اور اس وقت حضور علیہ السلام پر ایک عجیب محویت کا عالم تھا کہ آنکھیں بند کی ہوئی تھیں اور چہرہ مبارک پر ٹور برستا ہوا معلوم ہوتا تھا اور بلا کسی قسم کی روک ٹوک کے عربی عبارت مسلسل اور متقی پڑھتے جارہے تھے گویا یوں معلوم ہوتا تھا کہ آگے کتاب رکھی ہوئی ہے یا جیسے کوئی حافظ قرآن پڑھتا جارہا ہے۔غالباً دو تین گھنٹہ تک مضمون خطبہ جاری رہا ہوگا۔بعد میں میں نے سنا تھا کہ کسی صاحب کے سوال پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میری آنکھوں کے سامنے سلسلہ وار مضمون لکھا ہوا گزرتا جاتا تھا اور میں پڑھتا جاتا تھا۔“ 1443 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ بی بی زینب نے عرض کی کہ میرے ماموں فوت ہو گئے ہیں اور وہ احمدی نہ تھے۔ان کا ایک لڑکا ہے دعا کریں کہ احمدی ہو جائے۔آپ نے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ اس کا نام غلام محمد ہے۔حضور نے لکھ لیا۔آپ نے دعا فرمائی اور وہ احمدی ہو گیا۔الحمد للہ علی ذالک۔1444 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ جب بڑی سخت طاعون پڑی تھی تو حضور نے حکم دیا تھا کہ لوگ صدقہ کریں۔چنانچہ لوگوں نے صدقے کئے اور حضور علیہ السلام نے بھی کئی جانور صدقہ کئے تھے۔گوشت اس قدر ہو گیا تھا کہ کوئی کھانے والا نہیں ملتا تھا۔انہی دنوں میں ماسٹر محمد دین صاحب جو آج کل ہیڈ ماسٹر ہیں ان کو طاعون ہو گئی تھی۔ان کے واسطے حضور علیہ السلام نے کیمپ لگوا دیا تھا۔تیمارداری کے واسطے ڈاکٹر گوہر دین صاحب کو مقررفرمایا تھا اور گھر میں ہم سب کو حکم دیا تھا کہ دعا کرو، خدا ان کو صحت دیوے۔چنانچہ ان کو صحت ہوگئی تھی۔1445 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اصغری بیگم صاحبہ بنت اکبر خان صاحب مرحوم در بان زوجه مدد خان صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن میں اکیلی بیٹھی تھی۔بادل گھرا