سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 251 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 251

سیرت المہدی 251 حصہ پنجم و برکامنہ کے بعد فرماتے کیا خدا کو جانتی ہو؟ رسول کو جانتی ہو؟ نماز پڑھتی ہو؟ قرآن پڑھتی ہو؟ قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھا کرو تا کہ تم کو سمجھ آ جائے اس میں کیا حکم ہے؟ 1440 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ آپ کو سردی بہت لگا کرتی تھی۔آپ اپنی پگڑی کو کمر سے باندھ لیا کرتے تھے۔جب آپ اندر نہ بیٹھ سکتے تھے تو حضرت اُم المومنین کو فرماتے کہ ”میں اندر نہیں بیٹھ سکتا باہر چلو۔“ آپ اُم المومنین سے الگ نہیں بیٹھا کرتے تھے۔اکثر ایسا ہوتا کہ آپ کو الہام ہورہا ہوتا اور حضرت بیوی صاحبہ آپ کے پاس ہوتیں۔آپ کو ان سے بہت انس و محبت تھی۔ایک دن حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ دنیا میں رشتے تو بہت ہوتے ہیں مگر میاں بیوی کا رشتہ سب سے بڑا ہے۔میرا دل چاہتا ہے۔میں آپ کے ساتھ مروں۔* 1441 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایام مقدمات کرم دین میں حضور علیہ السلام کئی کئی روز تک گورداسپور میں ہی رہتے تھے کیونکہ روزانہ پیشی ہوتی تھی۔ایک مکان تحصیل کے سامنے جو تالاب ہے۔اس کے جنوب میں کرایہ پر لیا گیا تھا۔ایک روز حضور مکان کے اوپر کے حصہ میں تھے۔نیچے والے حصہ میں ایک شخص قرآن کریم تکلف کے لہجہ میں پڑھ رہا تھا سن کر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ آواز کو ہی سنوارتا رہتا ہے۔گویا تکلف سے قرآن کریم پڑھنے کو نا پسند فرمایا۔1442 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس سال عید قربان پر عربی زبان میں خطبہ مسجد اقصیٰ میں پڑھا۔حضور نے قبل از قراءت خطبہ حضرت مولوی نورالدین صاحب ( خلیفہ اول) اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو تاکید فرمایا۔خطبہ کو ساتھ ساتھ لکھتے جانا کیونکہ جو کچھ اس وقت میں کہوں گا اس کے لکھنے میں غلطی رہ گئی تو بعد میں میں بتا نہ سکوں گا۔چنانچہ جس وقت حضور نے خطبہ شروع کیا تو ہر دو مولوی صاحبان لکھتے جاتے تھے پہلے حضوڑ نے کچھ حصہ خطبہ کا کھڑے کھڑے پڑھا اور بعد میں کرسی لائی گئی جس پر بیٹھ کر خطبہ کو ختم کیا۔دوران خطبہ