سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 244 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 244

سیرت المہدی 244 حصہ پنجم ہوا کہ پھٹکری وہاں نہیں ہے اس طرح یقین ہو گیا کہ سالن میں غلطی سے نمک کی بجائے پھٹکری پڑ گئی ہے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز کا وقت ہو چلا ہے کوئی اور چیز روٹی کے ساتھ کھانے کو منگا لو۔اس وقت اور کچھ انتظام جلدی سے کر لیا گیا تھا۔دوسرے دن جب کھانا آیا تو میں بھی وہاں موجود تھی۔حضور نے اصغری کی اماں سے دریافت کیا کہ سچ سچ بتاؤ کہ سالن میں کل نمک ڈالا تھا یا پھٹکری ؟ تو اس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ حضور غلطی سے پھٹکری پڑ گئی تھی۔حضور نے ہنس کر فرمایا کہ کل تم نے کیوں نہیں مانا تھا کہ پھٹکری ڈالی ہے۔“ اس نے کہا کہ حضور میں ڈرتی تھی کہ شاید حضور خفا ہوں گے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ” کیا آج ہم خفا نہیں ہو سکتے ہمیں تو کل ہی پتہ لگ گیا تھا۔“ 1421﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ آپ علیہ السلام کی طبیعت میں کسی قدر مذاق بھی تھا۔ایک دفعہ آپ نے ایک لڑکی کو اخروٹ توڑنے کے لئے دیئے اور فرمایا کہ جتنے اخروٹ ہیں اتنی ہی گریاں لیں گے۔ایک عورت نے کہا کہ حضور اخروٹوں میں سے گریاں بہت نکلتی ہیں تو حضور مسکرائے۔1422 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے جب طاعون پڑی تھی۔لوگوں کو حکم تھا کہ باہر چلے جاؤ“۔میرے خسر صاحب قاضی ضیاء الدین صاحب کو حکم ہوا تھا کہ تم اسکول چلے جاؤ۔ایک کمرے میں ہم اور ایک میں مولوی شیر علی صاحب ٹھہرے تھے۔قاضی صاحب بیمار تھے۔ان کی خواہش تھی کہ حضور علیہ السلام کی زیارت کریں۔کہتے تھے کہ جب حضور اس طرف سے گزریں گے تو مجھے بتانا، میں زیارت کروں گا۔انہیں ایام میں جب حضرت صاحب گورداسپور تشریف لے گئے تھے وہ فوت ہو گئے۔جب حضور علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ قاضی ضیاء الدین صاحب کی یہ خواہش تھی کہ مجھے دیکھیں تو افسوس کیا کہ اگر خبر ہوتی تو میں خود جا کر ان کو مل آتا۔“ 1423 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم نے بواسطه لجنہ