سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 245
سیرت المہدی 245 حصہ پنجم اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحب مرحوم کا نکاح سیدہ مریم بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر عبد الستار شاہ صاحب مرحوم و مغفور ( حرم حضرت خلیفتہ اسیح الثانی) سے ہوا تو میں آگرہ سے آئی ہوئی تھی۔مغرب کے بعد نکاح ہوا۔میں مبارک دینے آئی تو کوئی عورت سیدہ مریم بیگم کو گود میں اٹھا کر حضوڑ کے پاس لائی۔حضور علیہ السلام اس وقت ام ناصر احمد صاحب کے صحن میں پلنگ پر استراحت فرما تھے۔حضور علیہ السلام نے سیدہ مریم بیگم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور مسکرائے۔1424 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اصغری بیگم صاحبہ بنت اکبر خان صاحب مرحوم در بان زوجه مددخان صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرا نکاح کر دیا تھا ایک مرتبہ جب میں واپس آئی تو اس وقت میرے دو بہت صغرسن بچے تھے۔ایک لڑکی۔ایک لڑکا۔حضور کی کمال مہربانی میرے حال پر تھی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ " اصغری کمزور معلوم ہوتی ہے اسکے بچے چھوٹے ہیں۔اسے ان کو سنبھالنا مشکل ہے اسے بچوں کی خدمت کے واسطے ملازمہ رکھ دو۔چنانچہ پہلے ایک عورت مائی کرموں رنگریز نی رکھی گئی۔چند یوم کے بعد حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ” چھوٹے بچے کے واسطے بھی ملازمہ کھلانے کے واسطے رکھ دو۔چنانچہ پہلی خادمہ کرموں کی نواسی بھی مقرر کی گئی۔ان کو ایک روپیہ مہینہ اور کھانا دیا جاتا تھا۔1425 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میاں فضل الہی صاحب نمبر دار فیض اللہ چک کی ہمشیرہ قابل شادی تھی۔حضرت خلیفہ اول کے لئے حضور علیہ السلام نے تحریک فرمائی۔یہ عاجز اور بڑا بھائی میاں جمال الدین صاحب یہ تحریک لے کر فیض اللہ چک گئے اور تحریک سنادی گئی۔میاں فضل الہی مرحوم نے تو تسلیم کیا لیکن لڑکی کی والدہ نے انکار کیا۔بعدش اس کی شادی ایک معمر عمر حیات نامی فیض اللہ چک کے ساتھ کی گئی۔سنا گیا کہ اس لڑکی کی زندگی ہی برباد ہوگئی۔1426 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ بھابی زینب صاحبہ اہلیہ پیر مظہر قیوم صاحب مرحوم نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے ۱۹۰۷ء میں بیعت کی تھی۔ایک دن میں حضور کی