سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 243
سیرت المہدی 243 حصہ پنجم پس چار پانچ روز بعد لیکھرام کی ہلاکت کی خبر آگئی اور اسی ستائیسویں رات میں لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ رکھا گیا۔یہ وہی بابرکت و مبارک دختر ہے جن کا نکاح حضرت نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ سے ہوا۔حضور علیہ السلام کو مدت پہلے الہام میں خبر دی گئی تھی کہ نواب مبارکہ بیگم۔1419 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت ام ناصر صاحبہ حرم اول حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ و بنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ میں اور سرور سلطان بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا بشیر احمد صاحب و اہلیہ مولوی محمد علی صاحب اور اہلیہ پیر منظور محمد صاحب ، حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول سے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے جایا کرتی تھیں اس وقت مولوی صاحب اس مکان میں رہتے تھے جہاں اب اُم وسیم سلمھا اللہ رہتی ہیں۔پیر جی کی اہلیہ صاحبہ کو ماہواری تھی۔حضرت مسیح موعود اور اماں جان کے سامنے سے جب ہم قرآن مجید لے کر گزریں تو حضرت اماں جان نے دریافت کیا کہ اس حالت میں قرآن مجید کو ہاتھ لگانا جائز ہے، آپ نے فرمایا کہ ”جب خدا تعالیٰ نے ان دنوں میں چھٹی دے دی تو ہم کیوں نہ دیں۔ان سے کہد و کہ ان دنوں میں قرآن مجید نہ پڑھیں۔“ 1420 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ اصغری کی والدہ کھانا پکایا کرتی تھی۔ایک دن کریلے گوشت کا سالن پکایا۔حضور کو یہ سالن پھیکا معلوم ہوا تو کھانا لانے والی خادمہ کو فرمایا کہ اصغری کی اماں سے پوچھو کہ کیا نمک ڈالنا بھول گئی ہو؟“ اس نے جا کر پوچھا تو اس کو اصغری کی اماں نے کہا کہ میں نے تو کئی مرتبہ نمک ڈالا تھا مگر میں نے خیال کیا کہ شاید میرے منہ کا مزہ اس وقت درست نہیں ہے اس لئے میں نے اور ڈالنا بند کر دیا تھا۔پھر حضور نے اس کو خود طلب کر کے پوچھا تو اس نے یہی کہا کہ میں نے تو نمک کئی بار ڈالا ہے۔میں چکھتی رہی ہوں مگر سالن پھیکا ہی معلوم ہوتا رہا۔حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ اصغری کی اماں ! باورچی خانہ کے طاق میں جو پھٹکری پڑی تھی کہیں وہی تو نہیں ڈال دی ؟ مگر اس نے انکار کیا بعدۂ جب ایک عورت کو بھیجا کہ جا کر دیکھو کہ طاق میں پھٹکری ہے یا نہیں ؟ اور اس نے جا کر دیکھا تو معلوم