سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 242 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 242

سیرت المہدی 242 حصہ پنجم کہو عبدالقدیر روتا ہے۔اگر حضوڑ اجازت دیں تو میں لے آؤں۔آپ نے فرمایا۔’جلدی لے آؤ حضور علیہ السلام پگڑی سنبھالتے ہوئے اُٹھے اور مجھے فرمانے لگے یہیں ٹھہر جاؤ پھر حضور نے عبدالقدیر کی نبض دیکھی۔اور منہ پر ہاتھ پھیرا اور دعادی کہ صحت ہو اور عمر دراز ہو۔“ بس اسی وقت بخار کا فور ہو گیا۔1416 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ مولوی عبد اللہ صاحب سنوری مرحوم ومغفور نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے پاس میری بھابی اور بھتیجا در دصاحب رہتے تھے ان کو طاعون کی وجہ سے مولوی صاحب ان کے والد صاحب کے پاس چھوڑ آئے تھے۔میں پریشان تھی ، میری پریشانی کا ذکر اصغری کی اماں نے جا کر حضور علیہ السلام سے کیا۔حضور علیہ السلام نے مجھ کو اپنے پاس بلا کر پوچھا کہ تم پریشان ہو۔اچھا ہوا کہ مولوی صاحب چھوڑنے چلے گئے کیونکہ بچے اپنے باپ کے پاس اچھے ہوتے ہیں۔یہاں بیماری ہے اس لئے اچھا ہوا۔1417 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ احمد نور کی بیوی کوششی آگئی۔حضور علیہ السلام نے خود آ کر دیکھا۔دوائی دی۔فرمایا۔ایک وقت گوشت اور چاول بھی دئے جائیں۔ٹھنڈے ملک کے ہیں مرچ نہیں کھا سکتے۔“ 1418 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب لیکھر ام آریہ حسب پیشگوئی سیدنا مسیح موعود علیہ السلام ہلاک ہوا تو وہ دن عید الفطر کے بعد کا دن تھا۔اس سے قریباً چار پانچ روز قبل ۲۶ اور ۲۷ رمضان کی درمیانی رات جوستائیسویں ماہ رمضان کی عموماً مسلمانوں میں مشہور رات ہے۔ہم سب بھائی اور منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری اس رات مسجد مبارک میں ہی سوئے تھے۔صبح کی نماز کے وقت حضور علیہ السلام مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ آج رات گھر میں دردزہ کی وجہ سے تکلیف تھی اور میں دعا کر رہا تھا کہ یکا یک دعا کرتے کرتے لیکھرام کی شکل سامنے آگئی۔اس کے متعلق بھی دعا کر دی گئی اور فرمایا کہ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ جب کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو دعا کرتے کرتے وہ معاملہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ایسا ہی آج ہوا ہے کہ لیکھر ام سامنے آ گیا۔