سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 241
سیرت المہدی 241 حصہ پنجم سه برادران ( خاکسار راقم ، میاں جمال الدین صاحب ومیاں امام الدین صاحب) بھی کھڑے تھے۔ہم سب کو فرمایا کہ بٹالہ جا کر مولوی محمد حسین صاحب سے مل کر باتیں سنو۔چنانچہ ہم بٹالہ چلے گئے اور وہ جمعہ کا دن تھا۔خلیفیا نوالی مسجد میں نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔نما ز جمعہ کے بعد ایک چوبی منبر پر بیٹھ کر تقریر شروع کر دی اور ازالہ اوہام ہاتھ میں تھا۔ہماری طرف سے جواب شروع ہو گیا۔لوگ سنتے رہے۔اس وقت تک غیر احمدی کے پیچھے ترک نماز کا حکم نہ ہوا تھا۔اس کے بعد کبھی جمعہ اس کے پیچھے نہیں پڑھا۔1415 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ مولوی عبداللہ صاحب سنوری نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں قادیان میں آئی ہوئی تھی اور میرا بچہ عبد القدیر جس کی عمر آٹھ سال کی تھی میرے ساتھ تھا اور اس چھت کے نیچے ہم رہے جس کے اوپر حضرت صاحب رہا کرتے تھے۔ایک دن عبد القدیر بہت رویا۔وہ ضد کر رہا تھا کہ میں نے حضرت صاحب ابھی دیکھنے ہیں۔حضرت صاحب نے آواز سن کر صفیہ کی اماں کو بھیجا کہ دیکھو کس کا بچہ روتا ہے؟“ مگر صفیہ کی اماں نے رونے کی آواز ہی بیسنی کیونکہ مولوی صاحب عبدالقدیر کو چپ کرا چکے تھے۔رات بھر عبدالقدیر کو بخار رہا۔ہمیں ڈر تھا کہ اسے طاعون نہ ہو جائے کیونکہ قادیان میں طاعون کی وبا ہورہی تھی۔خیر ہم نے رقعہ لکھ کر حضرت صاحب کو دیا۔آپ نے مولوی صاحب کو اندر بلایا اور فرمایا کہ کیا آپ کو ڈر ہے کہ طاعون ہو جائے گی۔آپ خیال نہ کریں۔عبدالقدیر کو قبض کا بخار ہے۔“ پھر حضور نے تین پڑیاں دیں اور کہا ”جاؤ ایک پڑیا پانی سے کھلا دیں۔جب ایک پڑیا کھلائی تو وہ قے ہو کر نکل گئی۔حضور علیہ السلام کو بتایا تو فرمایا کہ اور دے دو۔دوسری اور تیسری بھی الٹی ہو کر نکل گئی۔پھر حضور نے دادی یعنی والدہ حضرت شادی خان صاحب جو صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحب مرحوم کو رکھا کرتی تھیں کو بھیج کر مجھ کو بلایا اور پوچھا کہ عبدالقدیر کی عمر کتنی ہے؟ میں نے بتلایا کہ آٹھ سال فرمانے لگے۔”مبارک احمد کی عمر ہے۔“ اس کے بعد کسٹر آئیل دیا جس سے آٹھ گھنٹہ بعد ایک قے آئی، دست آیا اور بخار ہلکا ہو گیا۔پھر چار بجے عبد القدیر نے کہا کہ میں نے حضرت صاحب دیکھنے ہیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ بغیر اجازت نہیں لے جانا۔اجازت لے لیں پھر دیکھ لینا۔میں نے جا کر اصغری کی ماں سے کہا کہ حضرت صاحب سے