سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 238
سیرت المہدی 238 حصہ پنجم مولوی عبداللہ صاحب سنوری سے کہا کہ وہ حضرت صاحب سے درخواست کریں کہ حضور ہمارے گھر تشریف لائیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حضور تشریف لے آئے تو آپ مجھے کیا دیں گے۔ماسٹر صاحب نے فرمایا کہ مٹھائی کھلاؤں گا۔اس پر مولوی عبداللہ صاحب سنوری نے کہا کہ وہ مٹھائی بھی آپ حضور کی خدمت اقدس میں ہی پیش کر دیں۔چنانچہ وہ گئے اور حضرت صاحب سے عرض کی۔جس پر حضور ہمارے گھر تشریف لے آئے ماسٹر صاحب کے والد چونکہ احمدی نہ تھے اور کسی زمانہ میں شدید مخالفت بھی کرتے رہے تھے۔اس ڈر سے گھر میں ان کو کسی نے اطلاع نہ دی کہ حضور تشریف لائے ہیں۔جس وقت حضور واپس جا رہے تھے تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیچھے سے دیکھ لیا۔مگر جب بعد میں ان کو پتہ چلا تو انہوں نے بہت افسوس کا اظہار کیا۔اور فرمایا مجھے کیوں نہ اطلاع دی، میں نے تو حضور کو پیچھے سے ہی دیکھا ہے۔وہ تو واقعی شیر خدا معلوم ہوتا ہے۔اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے میری بچی صغریٰ گود میں پیش کی گئی۔جو اس زمانہ میں حضور کی دعا سے پیدا ہوئی تھی۔حضور نے اس کے لئے دعا فرمائی اور اس کے منہ پر ہاتھ پھیرا۔تین بچے پیدا ہونے کے بعد میں بیمار ہو گئی تھی۔جس سے بہت سے بچے ضائع ہو گئے۔میرا خیال تھا کہ مجھے آ تشک ہو گئی ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کی اور حضور اقدس نے دعا فرمائی چنانچہ حضور کی دعا سے میری وہ بیماری دور ہوگئی اور پھر خدا تعالیٰ نے مجھے چار بچے دیئے۔صفرکی۔برکت اللہ مصلح الدین اور کلثوم اور وہ چاروں خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ سلامت ہیں اور خود بھی بچوں والے ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عِلی ذلک نشان انگوٹھا اہلیہ صاحبہ ماسٹر قا در بخش صاحب مرحوم دستخط نور احمد سنوری ۴۵-۱-۲۵ 1409 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں آگرہ سے آئی تھی۔میرے ساتھ ایک ملازمہ تھی۔میری لڑکی عزیزہ رضیہ بیگم جو کہ ابھی چار سال کی تھی وہ اس کی کھلاوی تھی۔کچھ باتیں مزاح کی بھی اس کو سکھایا کرتی تھی۔ایک دن حضور علیہ السلام آنگن میں ٹہل رہے تھے۔عزیزہ سلمہا نے چھوٹا سے