سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 239 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 239

سیرت المہدی 239 حصہ پنجم برقعہ پہنا ہوا تھا۔وہ حضور کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔حضور ٹھہر گئے۔عزیزہ نے رونی صورت بنا کر کہا۔اُوں اُوں مجھے جلدی بلا لینا۔حضور نے فرمایا کہ تم کہاں چلی ہو ؟ وہ نوکر کی سکھائی ہوئی کہنے لگی کہ میں سسرال چلی ہوں۔اس پر حضور خوب ہنسے۔فرمایا ”سرال جا کر کیا کروگی؟“ کہنے لگی۔”حلوہ پوری کھاؤں گی۔“ پھر آنگن میں ایک چکر لگایا پھر آ کر حضور کے قدموں سے چمٹ گئی۔حضور نے فرمایا کہ سسرال سے آگئی ہو؟ تمہاری ساس کیا کرتی تھیں؟ عزیزہ مسلمہا نے کہا کہ روٹی پکاتی تھی۔تمہارے میاں کیا کرتے تھے؟ کہا کہ روٹی کھاتے تھے۔پھر پوچھا ”تم کیا کھا کر آئی ہو؟“ کہنے لگی حلوہ پوری۔حضور نے فرمایا ” اس کی ساس اچھی ہے۔بیٹے کو تو روٹی دیتی ہے مگر بہو کو حلوہ پوری“۔1410 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجند اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”جب حضرت خلیفہ ثانی میاں محمود کی شادی ہوئی۔تو تائی صاحبہ یعنی حضرت اقدس کی بھا وجہ صاحبہ نے مراشن کو کہا کہ دہلی والی یعنی حضرت اُم المومنین اپنے بیٹے کا بیاہ کرنے لگی ہے۔مریدوں کی بیٹیاں لے لے کر۔اپنے خاندان کی لڑکیاں تو وہ لیں گے نہیں۔تو پرانی خاندانی حقدار مراشن ہے تو بھی ڈھولکی لے کر جا “۔جب وہ آئی اور ڈھول بجانا شروع کیا تو حضوڑ اندر کمرے میں تھے۔ڈھول کی آواز سن کر باہر تشریف لے آئے اور فرمایا ” اس کو کہدو کہ یہ نہ بجائے۔اس طرح چند مرتبہ کہا تھا کہ اس کو کہدو یہ نہ بجائے اور اس کو کچھ دے دو۔“ چنانچہ اس کو پانچ روپے دئے تھے۔مگر اس نے کہا کہ حضوڑ میں یہ نہیں لیتی۔مجھے سردی لگتی ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا اس کو ایک لحاف بھی دے دو۔وہ اس وقت پانچ روپے اور لحاف لے گئی تھی۔(1411 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ قبل از دعوی کا واقعہ ہے کہ حضور مسجد مبارک کے شاہ نشین پر بیٹھے ہوئے تھے اور میں بھی قریب ہی بیٹھا ہوا تھا کہ نماز شام کے بعد میر عباس علی لدھیانوی آگئے۔حضرت صاحب اٹھ کر ان کو ملے۔وہ بھی شاہ نشین پر بیٹھ گئے اور بہت خوش خوش با تیں ہوتی رہیں اور وہاں ہی کھانا آ گیا جو روٹی اور سبزی کریلے تھے جو گھی میں ہار بنا کر تلے ہوئے تھے۔میں نے بھی کھائے اس وقت حضرت صاحب ، میں اور میر عباس علی ہی تھے۔