سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 234
سیرت المہدی 234 حصہ پنجم نے ہر بار نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ یہی جواب دیا جو او پرلکھا گیا ہے اور یہ بھی کہا کہ اگر میں نکاح کر بھی دوں تو رخصتانہ ایک سال کو ہی ہوگا۔آخر ہم اسی وقت اُس سے واپس ہوئے اور جواب آ کر سنا دیا گیا۔حضور خاموش رہے اور مولوی عبد الکریم صاحب بھی منہ تکتے رہ گئے۔حضور علیہ السلام نے اس وقت فرمایا کہ لڑکی والوں میں ایک حد تک استغناء ہوتا ہے اس کا قدر کرنا چاہئے۔آخر وہ نکاح ہوا اور وہ دلہن ہاں مبارک دلہن قادیان میں آباد ہوئی۔کچھ مدت کے بعد بیمار ہو کر قادیان میں فوت ہوئی اور مقبرہ بہشتی میں مدفون ہوئی۔اللَّهُمَّ اغْفِرُ لَهَا وَارْحَمُهَا وَأَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِين - نوٹ: اس سے حضور کی صداقت اور مقبرہ بہشتی کی عظمت کا پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نیک فطرتوں کو روکیں تو ڑ کر یہاں لاتا ہے جن کی فطرت نیک ہے آئیں گے وہ انجام کار اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب لاہور چلے گئے۔اب تو مقبرہ بہشتی کو کانی آنکھ دیکھتے ہیں۔یہ زمین کسی کو بہشتی نہیں بناتی بلکہ جو بہشتی ہوتا ہے وہ یہاں مدفون ہوتا ہے۔1398 بسم اللہ الرحمن الرحیم فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطه لجند اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ آپ بچوں سے بہت محبت کیا کرتے تھے ہر وقت اپنے پاس کوئی چیز رکھتے تھے۔میری بڑی لڑکی چار سال کی تھی اور اس کو کالی کھانسی تھی۔وہ کہتی تھی کہ اگر حضرت صاحب مجھے کچھ دیں گے تو مجھے آرام ہو جائے گا۔حضور کچھ لکھ رہے تھے۔حضور نے بکس کھولا اور دونوں ہاتھ بھر کے منقہ دیا اور ایک سفید رومال میں باندھ دیا اور فرمایا کہ سارا نہ کھا جائے۔تھوڑا تھوڑا کھائے گرم ہوتا ہے۔وہ کھانے لگی اس کے کھاتے ہی اس کو کھانسی سے آرام ہو گیا۔ورنہ ہم تو بہت علاج کر چکے تھے۔حضور علیہ السلام کے ہاتھ کی برکت تھی۔❤1399 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بند و بست ۱۸۹۰٫۹۱ء کے وقت قادیان میں ایک افسر بندوبست مرزا نظام الدین صاحب کے مکان میں رہتے تھے اور وہ حضور کو بھی ملا کرتے تھے۔نمازی تھے اور ان کا نام مولوی غلام علی صاحب تھا آخر میں وہ احمدی ہو گئے تھے۔ان کو شکار کھیلنے کا شوق تھا۔ایک روز ان کو معلوم ہوا کہ ہند ومحلہ میں کسی مکان میں ہلا