سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 235 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 235

سیرت المہدی 235 حصہ پنجم چھپا ہوا ہے۔مولوی صاحب موصوف معہ شکاری کتوں کے ہندو محلہ کی طرف چل پڑے۔اس وقت میں اور میرے بڑے بھائی صاحب میاں جمال الدین صاحب مرحوم موجود تھے۔ہم بھی ساتھ چل پڑے۔وہاں چل کر ایک بند مکان میں شکاری کتے گھس گئے اور بلا مکان سے نکلا۔کتوں نے اس کا تعاقب کر کے پکڑ لیا اور بہت شور پڑا۔جبکہ بلے کو کتے ادھر اُدھر گھسیٹنے لگ پڑے۔حضور علیہ السلام اس نظارہ کو دیکھ نہ سکے اور فوراً وہاں سے چپکے سے واپس ہوئے اور حضور کی خاموش واپسی کو دیکھ کر ہم بھی واپس آگئے (کسی کی تکلیف کو نہ دیکھ سکتے تھے )۔1400 بسم اللہ الرحمن الرحیم فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری لڑکی آمنہ جب حضرت صاحب کے پاس آتی تو حضور مٹھائی دیتے۔جب نماز کا وقت ہوتا تو آمنہ کہتی کہ حضرت صاحب نماز اندر ہی پڑھیں۔اماں جان فرماتیں کہ اس کی مرضی ہے کہ اندر نماز پڑھی جائے اور مجھ کو مٹھائی جلدی ملے تو حضور مٹھائی دے کر جاتے۔1401 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضوڑ کے بڑے باغ میں علاوہ درخت ہائے آم کے کچھ درختان بیدا نہ بھی تھے لیکن شمر بیدانہ مارچ اپریل میں تیار ہو جاتا ہے اور آم کا ثمر جولائی اگست میں تیار ہوتا ہے لیکن تاجر لوگ مارچ اپریل میں ہی سارے باغ کا سودا کر لیتے تھے۔ایک دفعہ تجویز ہوئی کہ جو شمر پختہ ہو وہی بیچ ہونا چاہئے اس لئے سر دست بیدا نہ بیچ ہونا چاہئے اور تاجر بھی موجود تھے۔مگر حضور نے ہمیں ترجیح دی اور ہمارے چودہ روپے نقد وصول کر لئے اور فرمایا کہ ان سے ہمیں کمی و بیشی قیمت کا سوال نہیں۔“ 1402 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم آگرہ سے تین ماہ کی رخصت لے کر آئے۔حضور نے اونچا دالان رہنے کو دیا۔میرا معمول تھا کہ روزانہ نماز عصر کے بعد حضور کی خدمت میں سلام کو جاتی۔حضرت اقدس واُم المومنین صاحبہ ام ناصر والے صحن میں پلنگ پر بیٹھے تھے۔میں سلام کر کے ایک چھوٹی چار پائی پر جو سامنے پڑی تھی بیٹھ گئی۔میں اس وقت زیادہ تر سفید کپڑے ہی پہنتی تھے۔حضور