سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 233
سیرت المہدی 233 حصہ پنجم 1397 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جبکہ مولوی کرم دین ساکن بھیں ضلع جہلم کے ساتھ مقدمات چل رہے تھے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی کئی کئی روز تک گورداسپور میں رہا کرتے تھے۔کچھ مدت اندرون شہر مولوی علی محمد صاحب جو محکمہ نہر میں ایک معزز عہدہ دار تھے ان کے مکان میں رہائش کا موقعہ ملا اور ان کے بھائی نبی بخش صاحب جو ان دنوں غالباً پنشنر تھے ان کے ہاں لڑکی تھی۔مولوی محمد علی صاحب ( حال امیر پیغام بلڈنگ لاہور ) کے لئے اس کے رشتہ کی تحریک ہوئی جس کو حضور علیہ السلام نے منظور فرمالیا اور اس لڑکی کے والد صاحب نے بھی منظور کر لیا لیکن نکاح کرنے میں وہ غالباً ایک سال کی التوا چاہتے تھے۔اس طرف مولوی محمد علی صاحب کے لئے اور رشتہ بھی تیار تھا لیکن حضور علیہ السلام اس رشتہ کی منظوری دے چکے تھے اس لئے کسی کو یہ طاقت نہ تھی کہ کسی اور رشتہ کے لئے منظوری دے سکے۔اس لئے ایک روز مولوی عبدالکریم صاحب نے مسجد مبارک میں بڑے زور کے ساتھ تجویز کی کہ آج ظہر کے وقت حضرت صاحب کے سامنے زور سے عرض کی جائے کہ اور کئی رشتے آرہے ہیں اور کہ گورداسپور والا رشتہ ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ لڑکی والے ایک سال تک التوا چاہتے ہیں۔اس لئے حضور ایک دفعہ ان سے دریافت کر لیں اگر وہ نکاح کر دیں تو بہتر ورنہ کسی دوسری جگہ نکاح ہو جائے۔جب حضور علیہ السلام نماز کے لئے مسجد میں تشریف لائے تو سوال کر دیا گیا اور زور دار الفاظ میں سوال کیا گیا۔حضور علیہ السلام نے بھی درخواست منظور فرما کر خط بنام منشی نبی بخش صاحب تحریر فرما کر منشی عبدالعزیز صاحب او جلوی ( پٹواری سیکھواں ) کے حوالہ میری معیت میں کر دیا اور فرمایا کہ ”جس وقت گورداسپور پہنچو فوراً ان کے مکان پر جا کر ان سے دو حرفی جواب لو کہ یا وہ نکاح کر دیں یا جواب دیں تاہم کوئی اور انتظام کر لیں۔ان دنوں رات کے ایک دو بجے کے قریب ریل گاڑی گورداسپور پہنچا کرتی تھی ہم نے گاڑی سے اترتے ہی اس کا دروازہ جا کھٹکھٹایا اور سوتے سے جگایا۔خط اس کو دے دیا اور زبانی بھی حقیقت سنادی اور جواب دو حرفی کا مطالبہ کیا اس نے نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ جواب دیا کہ حضرت صاحب بادشاہ ہیں وہ مولوی صاحب کا کسی دوسری جگہ بھی نکاح کر دیں۔میں ایک سال تک ضرور نکاح کر دوں گا۔ہم نے کئی بار مطالبہ کیا کہ آپ یا نکاح کردیں یا انکار کر دیں۔منشی صاحب