سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 231
سیرت المہدی 231 حصہ پنجم واعظ مجاہد نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضوڑ باہر سیر کو تشریف لے گئے تو مستورات بھی ساتھ تھیں۔آپ آدھے راستہ سے ہی واپس آگئے۔راستہ میں تھے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ تیرے نام منی آرڈر آیا ہے۔تو مسیح موعود علیہ السلام ڈاک خانہ سے پچاس روپے وصول کرتے ہوئے اپنے گھر واپس تشریف لے آئے۔1391 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اما ء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ضلع گورداسپور کی عورتیں آئیں۔حضرت اماں جان کچھ گھبرا گئیں۔گاؤں کی عورتیں جن کے سر میں گھی لگا ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا۔”گھبرانے کی بات نہیں۔مجھے تو حکم ہے کہ وَسِعُ مَكَانَكَ يَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ ( یہ الہام ہیں ) آپ کو معلوم نہیں یہ میرے مہمان ہیں۔“ 1392 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مغلانی نور جان صاحبہ بھا وجہ مرزا غلام اللہ صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ بیواؤں کے نکاح ثانی کے متعلق جب پشاور سے چار عورتیں آئی تھیں دو ان میں سے بیوہ ، جوان اور مال دار تھیں۔میں ان کو حضرت کے پاس لے گئی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جوان عورتوں کو نکاح کر لینا چاہئے۔میں نے کہا جن کا دل نہ چاہئے وہ کیا کریں؟ یا بچوں والی ہوں ان کی پرورش کا کون ذمہ دار ہو؟ آپ نے فرمایا ” اگر عورت کو یقین ہو کہ وہ ایمانداری اور تقویٰ سے گزار سکتی ہے اس کو اجازت ہے کہ وہ نکاح نہ کرے مگر بہتر یہی ہے کہ وہ نکاح کرلے۔“ 1393 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سات دسمبر اٹھارہ سوننانوے کا واقعہ ہے۔فرمایا کہ ”ہم نے گھر میں کہا ہوا ہے کہ جب کوئی بھاجی کے طور پر کوئی چیز بھیجے تو نہ لیا کرو۔پھر فرمایا کہ ایک روز ایک عورت سکھ مذہب کی ہمارے گھر میں بعض چیزیں لے کر آئی۔حسب دستور ہمارے گھر سے واپس کر دی گئیں۔اس عورت نے کہا کہ واپس نہ کرو۔مجھے کوئی غرض نہیں ہے۔مجھ پر آپ نے بڑا احسان کیا ہے۔فرمایا کہ ہم نے اس عورت کو شناخت کیا۔اصل بات یہ تھی کہ اس عورت کے لڑکے کو ام الصبیان کی بیماری تھی اور لڑ کا قریب المرگ تھا وہ ہمارے پاس لڑکے