سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 230
سیرت المہدی 230 حصہ پنجم بازار سے تربوز منگوائے۔ان کو کاٹ کر اور مصری ڈال کر رکھ چھوڑا۔میں ، سرور سلطان صاحبہ، زینب استانی صاحبه أم ناصر احمد صاحب فاطمہ صاحبہ اہلیہ مولوی محمد علی صاحب اور عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم سب مل کر کھانے لگیں۔ایک مائی تابی ہوا کرتی تھی۔ہم نے ایک ٹکڑا اس کو بھی کھانے کو دیا۔اس نے کھا کر درمیان میں جو برتن تھا اس میں چھلکا پھینک دیا۔تربوز کے پانی کی چھینٹیں اڑ کر ہم سب پر پڑیں۔ہم کو بھی شرارت سوجھی۔ہم نے اپنے اپنے چھلکے مائی تابی کو مارے۔وہ بیچاری غصہ ہوگئی اور ا حضرت صاحب سے جا کر شکایت کی۔حضور نے گواہیاں لیں تو معلوم ہوا کہ پہل مائی نے کی تھی۔پھر سب کو باری باری بلا کر پوچھا۔آپ ہنس پڑے اور فرمایا۔”مائی پہل تم نے کی تھی۔وو 1388 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب زمیندار کھاریاں نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور دن بھر یا تو عبادت کرتے رہتے تھے یا لکھتے رہتے تھے اور جب بہت تھک جاتے تھے تو رات کے وقت حافظ معین الدین صاحب کو کہا کرتے تھے کہ ” کچھ سناؤ تا کہ مجھے نیند آجائے۔حافظ صاحب آپ کو دبایا بھی کرتے تھے۔ایک دن حضرت صاحب نے فرمایا کہ حافظ صاحب کچھ سنائیے۔حافظ صاحب سنانے لگے۔سناتے سناتے حافظ صاحب نے سمجھا کہ حضوڑ سو گئے ہیں۔وہ چپ ہو گئے حضرت صاحب نے فرمایا کہ سنائیے میں سویا نہیں۔میرے سر میں درد ہے۔“ اسی طرح حضرت صاحب نے صبح تک تین چار دفعہ کہا۔صبح کے وقت آپ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جایا کرتے تھے اور جب آتے تو حضرت ام المومنین کو جو بات وہاں ہوتی سنا دیا کرتے۔آپ کے کھانے کے وقت بہت سے لوگ تبرک کے لئے عرض کرتے آپ ان سب کو دے دیا کرتے۔1389 بسم اللہ الرحمن الرحیم فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجند اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں پہلی بار آئی تو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے گھر جانا منع کیا ہوا تھا۔میں بھی ڈر کے مارے نہیں جایا کرتی تھی۔آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ فضل سے کہو کہ تم کو منع نہیں کیا۔تم جایا کرو تمہاری رشتہ داری ہے۔1390 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم صاحبہ شاہجہاں پوری اہلیہ شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم 66