سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 218
سیرت المہدی 218 حصہ پنجم پردہ نہیں کرنا چاہئے۔مگر انہوں نے کہا کہ مجھے شرم بھی آتی ہے اور پردہ کا رواج بھی ہمارے گھر میں زیادہ ہے۔حضرت کے دریافت کرنے پر جب حضور کو معلوم ہوا کہ یہ ڈاکٹر فیض علی صاحب کی والدہ ہیں تو آپ نے فرمایا کہ کہاں ٹھہرے ہو اور کب سے آئے ہو؟ والدہ نے عرض کیا کہ پندرہ دن ہوئے ہیں۔ہم مراد و ملانی کے مکان میں رہتے ہیں۔آپ نے فرمایا۔کھانے کا کیا انتظام ہے؟“ بوبو جی نے کہا کہ خود پکا لیتے ہیں۔فرمایا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مہمان ہو کر خود کھانا پکائیں۔آپ کو معلوم نہیں کہ قادیان میں جو مہمان آتا ہے وہ ہمارا ہی مہمان ہوتا ہے۔آپ کو ڈاکٹر فیض علی نے نہیں بتایا ؟ بو بوجی نے کہا ہم پانچ چھ آدمی ہیں۔حضور علیہ السلام کو تکلیف دینا مناسب نہ تھا۔آپ نے فرمایا کہ ہمارا حکم ہے کہ ہمارے مہمان ہمارے گھر سے ہی کھانا کھا ئیں۔فرمایا کہ دادی کہاں ہیں ؟ دادی نے کہا۔”حضور جی میں کو لے کھڑی آں۔فرمایا ان کے ساتھ جا کر گھر دیکھ لو اور دونوں وقت کھانا پہنچا آیا کرو اور پوچھ لیا کرو کہ کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔میرے متعلق پوچھا کہ کیا یہ فیض علی کی لڑکی ہے ؟ بو بوجی نے بتایا کہ یہ میری لڑکی ہے۔فیض علی کی تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔پوچھا ”عمر کیا ہے ؟“ بو بوجی نے بتایا چودہ سال۔اس وقت دادی اور فجو ہمیں گھر چھوڑنے آئیں۔کھانالنگر سے آنے لگا۔لنگر ابھی گھر میں ہی تھا۔وہ جلسہ سالانہ کے ایام تھے۔مہمانوں کا کھانا زردہ ، پلاؤ وغیرہ بھی گھر ہی پکتا تھا۔حضرت اُم المومنین صاحبہ کھانا خود تقسیم فرماتی تھیں۔چند یوم کے بعد بو بوجی اور میں نے بیعت کر لی۔بیعت مغرب کے بعد اونچے دالان کے ساتھ والے چھوٹے کمرے میں کی تھی۔اس میں کھوری بچھا کر اوپر ٹاٹ کے ٹکڑے بچھائے ہوئے تھے اور دونوں طرف لکڑی کے دو صندوق تھے ایک پر موم بتی جل رہی تھی اور حضور علیہ السلام کچھ تحریر فرمارہے تھے۔جگہ تنگ تھی۔ہم دونوں دروازہ میں بیٹھ گئیں حضور علیہ السلام نے بیعت لی اور دعا فرمائی۔1358 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب ہم بیعت کر کے امرتسر واپس چلے گئے۔میری عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی۔ایک سال کے بعد میرے بڑے بھائی علی اظفر صاحب مرحوم نے افریقہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تحریر کیا کہ ” میری بہن کے رشتہ کا حضور کو اختیار ہے،