سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 219 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 219

سیرت المہدی 219 حصہ پنجم حضور اس کے ولی ہیں ، جہاں حضور کی منشاء ہو ، رشتہ کر دیں“۔اور اسی مفہوم کا ایک خط بھائی فیض علی صاحب صابر کو بھی لکھ دیا۔پھر حضور علیہ السلام نے بھائی صاحب کوتحریر فرمایا کہ ” آپ کے بڑے بھائی نے ہمیں ہی لڑکی کا سر براہ بنا دیا ہے ، ان کا خط آیا ہے۔ہم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو پسند کرتے ہیں۔ان کو دیکھ لو اور چاہو تو ان سے اپنی ہمشیرہ کا نکاح کر دو۔مگر بہتر ہو کہ پہلے ان کو اپنی ہمشیرہ دکھا بھی دو۔1359 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ڈاکٹر خلیفہ صاحب مرحوم ومغفور فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے ڈاکٹر فیض علی صاحب کی طرف ایک تحریر دی جس میں رشتہ کا لکھا تھا۔آپ رقعہ لے کر امرتسر گئے۔امرتسر میں آپ کو حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب رحمۃ اللہ علیل گئے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ " کیسے آئے ہو؟“ ڈاکٹر صاحب نے بتایا تو حضرت نانا جان نے کہا کہ لا ؤ رقعہ مجھے دوتم تو بڑے بھولے ہو۔کوئی اپنے رشتہ کا پیغام خود بھی لے جاتا ہے؟ ہم خود پیغام لے کر جائیں گے۔اس پر ڈاکٹر صاحب مرحوم وہ رقعہ حضرت میر صاحب کے سپر د کر کے خودلا ہور چلے گئے۔1360 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر فیض علی صاحب نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری ہمشیرہ کے رشتہ کا رقعہ حضرت اقدس علیہ السلام نے خود خلیفہ صاحب کو دیا تھا۔چونکہ پہلے مجھ سے ان کا تعارف نہ تھا۔یوں بھی شرمندگی سے وہ خود میرے پاس نہیں آئے اور حضرت میر صاحب نانا جان کو بھیج کر خود لاہور چلے گئے تھے۔میں دوسرے دن یہ ہدایت نامہ لے کر پہلے ڈاکٹر رحمت علی صاحب کے پاس چھاؤنی میاں میر (لاہور) میں گیا۔ڈاکٹر صاحب رقعہ دیکھ کر بہت خوش بھی ہوئے ہونگے۔فرمایا۔حضرت اقدس کا حکم سر آنکھوں پر ہے۔پھر میں آگے لا ہور حویلی پتھراں والی ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے پاس چلا گیا۔میں نے ان سے کہا کہ دیکھنا ہے تو چل کر دیکھ لو۔مگر سیرت جو نہایت ضروری ہے اسے کس طرح دیکھ کر معلوم کرو گے ( میں نے کچھ ایسا ہی کہا تھا ) مگر شاید وہ خود جا کر دیکھنے میں بھی شرمساری محسوس کرتے ہونگے۔واللہ اعلم انہوں نے کہا کہ میں نے صورت وسیرت کے متعلق سن لیا ہے اور تمہارے چھوٹے بھائیوں کو بھی