سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 217 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 217

سیرت المہدی 217 حصہ پنجم گئی۔بھائی صاحب نماز پڑھنے چلے گئے۔بو بو جی نے اس گھبراہٹ میں ہی نماز پڑھی۔قبلہ کی جانچ بھی نہ کی۔نماز کے بعد وہیں غنودگی میں لیٹے تھے کہ بھائی صاحب آگئے۔والدہ بو بوجی نے اچانک بیدار ہو کر کہا کہ میں نے ابھی ایک بزرگ سفید ریش کو دیکھا۔جن کے ہاتھ میں عصا تھا۔انہوں نے تین دفعہ فرمایا 'یا حضرت عیسی “ “ اس پر بھائی صاحب نے کہا کہ بو بو جی آپ کو تو آتے ہی بشارت ہو گئی ہے اب آپ کو زیادہ تأمل بیعت میں نہیں کرنا چاہئے“۔1356 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب ہم کو مرا دو ملانی کے مکان میں رہتے ہوئے چند دن گزر گئے تو ہمسائیوں کی عورتیں گھر میں آنے جانے لگیں اور ان کو معلوم ہوا کہ بو بو جی کولوگوں نے ڈرایا ہوا ہے تو باوجود یکہ وہ بھی مخالفین میں سے تھیں مگر انہوں نے بتایا کہ مرزا صاحب میں کوئی بات خوف کرنے کی نہیں ہے۔وہ تو بچپن سے ہی ہم جانتی ہیں بہت نیک پاک ہے نمازی پرہیز گار ہے۔بو بوجی کو مخالفوں نے یہاں تک ڈرایا ہوا تھا کہ اگر تو جاتی ہے تو اپنی لڑکی کو ساتھ نہ لے جا۔مرزا جادوگر ہے وہ اپنے مریدوں کو ایسا قابو کر لیتا ہے کہ وہ اس کی خاطر اپنی عزتوں کی بھی پروانہیں کرتے۔لیکن جب بو بوجی کا ڈر ہمسائیوں کے ملنے اور قادیان میں دو تین ہفتہ تک رہنے سے کچھ کم ہوا۔تو ان کو حضرت صاحب کے گھر جانے کی جرات ہوگئی۔ایک دن وہ چند ہمسائیوں کو لے کر دل کڑا کر کے حضرت اقدس کے گھر گئیں۔حضرت اقدس کو دیکھ کر انہوں نے پہچان لیا کہ یہ تو وہی بزرگ ہے جس کو انہوں نے پہلے دن کشف میں دیکھا تھا۔" 1357 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ دوسرے دن بو بو جی مجھے ساتھ لے کر گئیں۔تو پہلے قدرت اللہ خان کی بیوی سے ملے۔اونچے دالان کے سامنے تخت پوش پر جہاں ڈاکٹر نی اور اُمّ حبیبہ بیٹھی ہوئی تھیں ہمیں بٹھا دیا اور ہم سے پتہ معلوم کر کے حضرت اقدس کو اطلاع دی کہ مہمان عورتیں آئی ہیں۔حضرت اقدس اور اُم المومنین تشریف لے آئے۔بو بوجی نے پردہ کیا۔ڈاکٹرنی نے کہا کہ اللہ کے نبی سے