سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 216
سیرت المہدی 216 حصہ پنجم یہ باغ حضرت کی ملکیت تھا جو ڈھاب کے پار ہے ) اس میں صرف آم ، جامن اور شہتوت وغیرہ کے درخت تھے۔کوئی پھول پھلواری اور ان کی کیاریاں وغیرہ زیبائش کا سامان نہیں تھا۔بالکل تنہا وہ باغ تھا، تو حضور علیہ السلام نے سب کو جامن کھلائے۔ایک بار حضور نے چڑوے ریوڑیاں کھلائیں ،حضرت اُم المومنین بھی ساتھ ہوتی تھیں، چھابڑی والے بعض اوقات وہاں پہنچ جایا کرتے تھے۔1354 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مغلانی نور جان صاحبہ بھا وجہ مرزا غلام اللہ صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ڈاکٹر نور محمد صاحب کی بیوی نے حضرت اُم المومنین صاحبہ سے پوچھا کہ نور جان نے ایسا ارائیوں والا لباس پہنا ہوا ہے۔آپ اس کو اپنی نند کیوں کہتی ہیں۔آپ نے کہا کہ اس کے بھائی سے پوچھو۔پھر آپ سے پوچھا۔آپ نے فرمایا۔کہ ”صرف لباس کی وجہ سے ہم بہن کو چھوڑ دیں؟ یہ خود سادگی پسند کرتی ہیں۔پہلے ایسا ہی لباس ہوتا تھا“۔1355 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم مغفور نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادریان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے بھائی صاحب فیض علی صاحب صابر کا خیال تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں اقبال علی غنی اور منظور علی کو قادیان میں تعلیم دلائیں جس کے متعلق انہوں نے بصد مشکل والدہ ماجدہ مرحومہ کو راضی کیا اور جب اس طرح یہ دونوں چھوٹے بھائی قادیان چلے گئے تو کچھ اس خیال سے کہ والدہ کو ان کی جدائی شاق ہوگی اور کچھ بھائی صاحب کی بار بار تحریک سے کہا کہ میں نے بھی قادیان رہنا ہے اور قرآن مجید پڑھنا ہے، آپ بھی چلیں اور وہاں حالات دیکھیں۔والدہ مرحومہ اس وعدہ پر راضی ہوئیں کہ وہ صرف چند یوم کے واسطے جائیں گی اور الگ مکان میں رہیں گی اور کہ ان کو حضرت صاحب کے گھر جانے وغیرہ کے واسطے ان کی خلاف مرضی ہرگز مجبور نہ کیا جاوے۔چنانچہ بھائی صاحب نے ایک مکان خوجہ کے محلہ میں مراد و ملانی کا جو شیخ یعقوب علی تراب کے مکان کے ساتھ گلی کے کونے پر تھا، کرایہ پر لے لیا۔اور مجھے اور حضرت بو بوجی (اماں جی ) کولے آئے۔میں نے کبھی ریل نہ دیکھی تھی۔بو بوجی کو راستہ میں یکہ اور کچی سڑک کے باعث بہت تکلیف ہوئی۔چکر آئے اور قے بھی ہو گئی۔اس مکان پر پہنچ کر وہ تو مصلے پر لیٹ گئیں ، میں نماز سے فارغ ہو کر کھانا پکانے میں لگ