سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 200 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 200

سیرت المہدی 200 حصہ پنجم لینا میں ان میں سے نکل جاؤں گا۔میر صاحب کی اپنی فٹ بھی تھی ، دوگاڑیاں اور آگئیں۔ہم سب حضرت صاحب کے خاندان کے ساتھ گاڑیوں میں بھر کر چلے گئے۔پہلے حضرت میر ناصر نواب صاحب کے والد کے مزار پر تشریف لے گئے اور بہت دیر تک دعا فرمائی اور آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہے۔اس کے بعد آپ حضرت نظام الدین اولیاء کے مقبرہ پر تشریف لے گئے۔آپ نے تمام مقبرہ کو خوب اچھی طرح سے دیکھا۔پھر مقبرہ کے مجاوروں نے حضور سے پوچھا، آپ حضرت نظام الدین صاحب کو کیا خیال فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ”ہم انہیں بزرگ آدمی خیال کرتے ہیں۔پھر آپ نے مقبرہ کے مجاوروں کو کچھ رقم بھی دی جو مجھے یاد نہیں کتنی تھی پھر آپ مع مجاوروں کے قطب صاحب تشریف لے گئے۔وہاں کے مجاوروں نے آپ کو بڑی عزت سے گاڑی سے اتارا اور مقبرہ کے اندر لے گئے کیونکہ مقبرہ نظام الدین اولیاء میں تو عورتیں اندر چلی جاتی ہیں لیکن قطب صاحب میں عورتوں کو اندر نہیں جانے دیتے۔ان لوگوں نے حضور کو کھانے کے لئے کہا۔حضور نے فرمایا ”ہم پر ہیزی کھانا کھاتے ہیں آپ کی مہربانی ہے“۔وہاں کے مجاوروں کو بھی حضور نے کچھ دیا پھر حضور علیہ السلام وہاں سے شام کو واپس گھر تشریف لے آئے۔مجاور کچھ راستہ تک ساتھ آئے۔1313 بسم اللہ الرحمن الرحیم اہلیہ صاحبہ بابوفخر الدین صاحب نے بواسط لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۲ء میں بابو صاحب کو تین ماہ کی رخصت ملی تو ہم ڈیڑھ ماہ قادیان میں رہے۔میں صبح ہی حضرت صاحب کو ملنے آئی تو دادی سے پوچھا۔حضرت صاحب کہاں ہیں؟ دادی نے کہا اس وقت حضور سو گئے ہیں۔تمام رات جاگتے رہے۔رات بارش کا طوفان تھا۔حضور نے فرمایا۔خدا جانے کوئی عذاب نہ آجائے۔تمام رات جاگتے رہے اور دعا کرتے رہے۔اب نماز کے بعد سو گئے ہیں۔اس لئے میں واپس آگئی۔پھر ایک بجے گئی تو حضور اس وقت ڈاک دیکھ رہے تھے۔آپ نے حضرت ام المومنین صاحبہ کو فرمایا۔دیکھو! ہم نے ڈاک کھولی تو نوٹ یہاں پر ہی گر پڑے اب مل گئے ہیں کسی نے دیکھے نہیں“۔میں ہر روز جاتی اور پنکھا جھل کر چلی آتی۔شرم کی وجہ سے کبھی حضور سے بات نہ کی۔1314 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ ماسٹر عبدالرحمن صاحب مہر سنگھ بی اے نے بواسطہ