سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 201 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 201

سیرت المہدی 201 حصہ پنجم لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری شادی حضور کے حکم سے ہوئی تھی۔میں رخصت ہو کر قادیان ہی آئی تھی اور میری والدہ ساتھ تھیں۔حضرت صاحب کے گھر میں ایک سردخانہ ہوتا تھا اس میں ہم سب رہا کرتے تھے۔جب میں حضور کو وضو کراتی تو حضور علیہ السلام’جزاکم اللہ کہا کرتے۔حضور لکھا بہت کرتے تھے۔جب بیٹھ کر لکھتے تو ہم حضوڑ کے کندھے دبایا کرتے تھے۔حضور اکثر ٹہل کر لکھا کرتے تھے درمیان میں ایک میز رکھی ہوتی اور اس پر ایک دوات پڑی رہتی تھی۔حضور لکھتے لکھتے ادھر سے آتے تو قلم کو سیاہی لگا لیتے۔پھر ادھر جاتے تو قلم سیاہی میں ڈبو لیتے اور جب پڑھتے تو اونچی آواز سے پڑھا کرتے تھے اور جو کچھ لکھتے اس کو دہراتے جاتے۔1315 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ عبد العزیز صاحب سابق پٹواری سیکھواں نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب بڑا زلزلہ جو ۱۹۰۵ء میں آیا تھا۔اس وقت ہم موضع سیکھواں جو ہمارا حلقہ تھا میں سکونت رکھتے تھے۔زلزلہ آنے کے بعد میں کچھ گھی لے کر قادیان میں آئی اس وقت حضور باغ میں معہ خدام سکونت رکھتے تھے۔حضور نے پوچھا کہ ”میاں عبدالعزیز نہیں آئے ؟۔“ میں نے عرض کی کہ حضور ان کا کوئی افسر آیا ہوا تھا اس واسطے نہیں آسکے۔1316 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔والدہ صاحبہ فاطمہ بیگم بیوہ میاں کریم بخش باورچی نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جس وقت میاں مبارک احمد فوت ہوئے تو دادی آئی (میاں شادی خان کی بیوی ) اور اماں جی کے گلے مل کر رونے لگی۔تو حضور حجرے سے گھبرا کر باہر نکلے اور کہنے لگے۔" مکان رونے کا نہیں ہے بلکہ ہنسنے کا ہے۔“ 1317 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی بھولی۔مائی جیواں عرف ملا قادر آباد نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ پہلے جب میاں جان محمد کشمیری نے بیعت کی تھی۔پھر مولوی صاحب نے۔میں اس وقت لڑکی تھی۔میری عمر اب اسی (۸۰) سال کی ہے۔جب حضرت صاحب ڈھاب بھروانا چاہتے تو ہندو سکھ آتے ، کہیاں اور ٹوکریاں چھین لیتے۔آپ کے مکان کے پیچھے لا بھا کھڑا ہو کر گالیاں دیتا رہا۔آپ نے اپنی جماعت کو فرمایا کہ ”چپ رہو چھ ماہ کے بعد وہ لا بھا ہندو گڑ کے کڑاہ میں گر کر مر گیا۔اس