سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 199
سیرت المہدی 199 حصہ پنجم کیا کہ ایک دفعہ میں نے سودی قرضہ کے متعلق سوال کیا۔فرمایا کہ یہ جائز نہیں ہے۔میں نے عرض کی کہ بعض اوقات مجبوری ہوتی ہے مثلاً ایک کاشتکار ہے۔اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔سرکاری معاملہ ادا کرنا ہوتا ہے۔سپاہی سر پر کھڑا ہے۔بجر، سود خور ، کوئی قرض نہیں دیتا۔ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ فرمایا ” مجبوری تو ہوتی ہے لیکن استغفار ہی کرے اور سودی قرضہ نہ لیوے۔“ 1310 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔فقیر محمد بڑھی نے بذریعہ تحریر بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بیان کیا کہ ”میرا باپ مجھے سنایا کرتا تھا کہ ایک دفعہ مرزا صاحب ایک کو ٹھے پر سے گر پڑے ہم آپ کی خبر گیری کو گئے۔آپ کو جب کچھ ہوش آئی تو فرمایا کہ دیکھو کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے؟۔(1311) بسم اللہ الرحمن الرحیم محتر مہ کنیز فاطمہ صاحبہ اہلیہ میر قاسم علی صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بیان کیا کہ حضرت اقدس ۱۹۰۵ء میں دہلی تشریف لے گئے۔حضور ہمارے مکان میں تشریف رکھتے تھے۔اس وقت میں نے حضور کی بیعت کی۔میرے ساتھ عبد الرشید صاحب کے سب خاندان نے بھی بیعت کی۔آپ نے فرمایا تم سوچ سمجھ لو۔تمہارے سب رشتہ دار وہابی ہیں۔میں نے کہا حضور میں نے خوب سوچ لیا ہے“۔آپ نے فرمایا کل جمعہ کے روز بیعت لوں گا، آج رات اور سوچ لو۔جمعہ کے دن آپ نے مولوی محمد احسن صاحب کو فرمایا کہ میر صاحب کی بیوی کو بلالاؤ میں گئی تو حضور نے بڑی محبت سے میری بیعت لی۔میرے ساتھ میرا ایک رشتہ دار محمد احمد بھی تھا۔اس نے بھی بیعت کی۔بیعت کرنے کے وقت دل بہت خوش ہوا۔بعد میں حضور نے بہت لمبی دعا فرمائی۔1312 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ کنیز فاطمہ صاحبہ اہلیہ میر قاسم علی صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت صاحب ۱۹۰۵ء میں دہلی میں تھے اور وہاں جمعہ کو میری بھی بیعت لی۔اور دعا فرمائی۔باہر دشمنوں کا بھاری ہجوم تھا۔میں بار بار آپ کے چہرے کی طرف دیکھتی تھی کہ باہر اس قدرشور ہے اور حضرت صاحب ایک شیر کی طرح بیٹھے ہیں۔آپ نے فرمایا۔” شیخ یعقوب علی صاحب کو بلا لاؤ۔گاڑی لائیں۔میر صاحب نے کہا۔حضور ! گاڑی کیا کرنی ہے؟ آپ نے فرمایا ” قطب صاحب جانا ہے، میں نے کہا حضور اس قدر خلقت ہے۔آپ ان میں سے کیسے گزریں گے؟ آپ نے فرمایا ' دیکھ