سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 198
سیرت المہدی 198 حصہ پنجم قلم کو سیاہی لگا لیتے۔دوعورتیں میرے ساتھ تھیں۔نیز ہمارے ساتھ ایک مرد بھی تھا۔اُس نے ہمارے متعلق حضرت صاحب کی خدمت میں ایک خط لکھ کر ہمارے ہاتھ بھیجا کہ یہ مستورات جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہیں ان میں سے ایک اہلیہ مولوی جلال الدین صاحب ضلع گجرات کی ہیں اور دوسری اہلیہ محمد الدین صاحب۔دونوں عورتوں کا نام تو حضور نے پڑھ لیا جب تیسری کی باری آئی تو حضور کمرے سے باہر نکل آئے اور دروازے کی چوکھٹ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور فرمایا۔” وہ مولوی فضل الدین صاحب کی بیوی ہیں۔تین بار حضور نے یہی الفاظ دہرائے۔انگنائی میں حضرت ام المومنین صاحب تشریف رکھتی تھیں۔بیوی صاحبہ ہنس پڑیں۔فرمایا ”لوگوں کو کیا پتہ بیوی صاحبہ کہاں ہیں؟ جب اذان ہوئی تو آپ نے فرمایا۔لڑکیو! اذان ہوگئی ہے نماز پڑھو۔چونکہ بیوی صاحبہ نے نماز نہیں پڑھی تھی۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ نے نماز نہیں پڑھنی کچھ دن عورتوں کے لئے ہوتے ہیں کہ جن میں وہ نماز نہیں پڑھتیں۔“ 1307 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایام مقدمات مولوی کرم الدین میں ایک روز نصف شب گورداسپور پہنچے۔چونکہ حضور علیہ السلام بڑے محتاط تھے۔فرمایا کہ شاید عدالت ضمانت طلب کرے۔میاں فضل الہی نمبر دار فیض اللہ چک کو بلایا جائے چنانچہ اُسی وقت میں اور میرا بھائی میاں امام الدین صاحب لالٹین ہاتھ میں لے کر فیض اللہ چک کو چل پڑے اور قبل از نماز صبح پہنچ گئے اور میاں فضل الہی صاحب کو ساتھ لے کر قبل از کچہری گورداسپور پہنچ گئے لیکن اس روز عدالت نے ضمانت طلب نہ کی۔1308 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں عبداللہ ا نظم عیسائی کے ساتھ مباحثہ شروع ہو گیا تھا موسم گرما تھا۔پانی کی ضرورت پڑتی تھی لیکن پانی اپنے ساتھ لے جایا جاتا تھا۔عیسائیوں کے چاہ ( کنوئیں) کا پانی نہیں لیا جاتا تھا کیونکہ عیسائی قوم حضرت رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنے والی ہے۔لہذا ان کے چاہ کا پانی پینا حضور پسند نہ فرماتے تھے۔1309 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان