سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 178
سیرت المہدی 178 حصہ چہارم حضور علیہ السلام باہر تشریف لائے اور جہاں اب مدرسہ احمدیہ کا دروازہ آمد ورفت بھائی شیر محمد صاحب کی دوکان کے سامنے ہے اور اس کے جنوب و شمال کے کمرے جن میں طلباء پڑھتے ہیں۔یہ جگہ سب کی سب السلام سفید پڑی ہوئی تھی۔کوئی مکان ابھی وہاں نہیں بنا تھا۔چار پائیاں یا تخت پوش تھے۔ان پر حضور علیہ ال مع خدام بیٹھ گئے اور اسی پیشگوئی کا ذکر شروع کر دیا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ عبد اللہ آتھم نے رجوع کرلیا ہے۔اس لئے اس کی موت میں تاخیر کی گئی ہے۔اس وقت آپ کے کلام میں عجیب قسم کا جوش اور شوکت تھی اور چہرہ مبارک کی رنگت گلاب کے پھول کی طرح خوش نما تھی اور یہ آخری کلام تھا جو اس مجلس سے اٹھتے ہوئے آپ نے فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ حق یہی ہے کہ جو خدا نے فرمایا ہے۔مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی میرے ساتھ رہے یا نہ رہے۔“ 1270 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے ضلع سیالکوٹ کے بعض سرکاری کاغذات ملے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۶۳ء میں سیالکوٹ میں ملازم تھے اور اس وقت آپ کا عہدہ نائب شیرف کا تھا۔ان کاغذوں میں جن کی تاریخ اگست اور ستمبر ۱۸۶۳ء کی ہے، یہ ذکر ہے کہ چونکہ مرزا غلام احمد نائب شیرف رخصت پر گئے ہیں اس لئے ان کی جگہ فلاں شخص کو قائمقام مقرر کیا جاتا ہے۔1271 ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ بیگم نواب حمد علی خاں صاحب مرحوم سے حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ امسیح الاول کی وصیت ملی ہے جو حضور نے اپنی وفات سے نو دن قبل یعنی ۴ مارچ ۱۹۱۴ کو تحریرفرمائی اور اس پر نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے موجودہ امیر غیر مبائعین کی گواہی درج کرا کے اور اس وصیت کو مجلس میں مولوی محمد علی صاحب سے پڑھوا کر نواب محد علی خان صاحب کے سپر دفرما دی جو مجھے اب نواب صاحب مرحوم کی وفات کے بعد اپنی ہمشیرہ سے ملی ہے اور میں حضرت خلیفہ امسیح اوّل کے خط کو اور اسی طرح گواہوں