سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 179
سیرت المہدی 179 کے دستخط کو پہچانتا ہوں۔وصیت جس کا عکس یعنی چہ بہ درج ذیل کیا جاتا ہے یہ ہے۔محمد علی خاں مرزا محمود اللہ گواهه گورها شد گوارشد بسم الله الرحمن البرج عمده ونصلی علی رو لا الكريم مع التسليم حصہ چہارم خاکسار بقائمی ہو اس لکھتا ہے لا الہ الا الله محمد رسول اللہ ﷺ بچے چھوٹے ہیں ہمارے گھر حال نہیں۔ان کا اللہ حافظ ہے۔ان کی پرورش امدادی یا بینا میں پا کے مساکین سے نہ ہو۔کچھ قرضہ حسنہ جمع کیا جائے۔لائق لڑکے ادا کریے پاکتب۔جاندار وقت اللہ علی الاولاد ہو میرا جانشین تقی ہو ہر دلعنہ پر عالم با عمل ہو۔حضرت حصہ کے پرانے اور نئے احباب کے سلوک چشم پوشی درگزر کو کام میں لادے۔میں سب کا خیر خواہ تھا و بھی چر خواہ رہے۔قرآن وحدر بتر کار کسی جاری رہے۔سال و اسلام نور الدين لم مارچ بعد ايا 1272 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ سیرت المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۶۳ بیان کردہ ڈاکٹر غلام احمد صاحب میں غلطی واقع ہوگئی ہے۔صحیح روایت خود ڈاکٹر صاحب موصوف کے والد صاحب شیخ نیاز محمد صاحب انسپکٹر پولیس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کی ہے یہ ہے کہ سال ۱۹۰۰ء کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ یہ عاجز ( شیخ نیاز محمد صاحب) حضرت سیدہ ام المومنین سلمھا اللہ تعالیٰ کے لئے ایک کپڑا بطور تحفہ لایا۔اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حضور میں پیش کر دیں۔کیونکہ اس عاجز کو حجاب تھا۔ان ایام میں مسجد مبارک کی توسیع ہورہی تھی اور اس لئے نماز ایک بڑے کمرے میں جواب حضرت میاں بشیر احمد صاحب (خاکسار مؤلف) کے مکان میں شامل ہے ، ہوتی تھی۔نماز ظہر کے وقت جب جماعت کھڑی ہوئی تو حضرت خلیفہ اول نے اس عاجز کو آگے بلا کر وہ کپڑ ا حضرت اقدس کی خدمت بابرکت میں پیش کیا۔حضور نے قبول فرما کر اپنے سامنے رکھ لیا۔نماز کے بعد حضور وہ کپڑا لے کر اوپر تشریف لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت نانا جان مرحوم ہنستے ہوئے باہر تشریف لائے اور پوچھا کہ میاں محمد بخش تھانیدار کا لڑکا کہاں ہے۔یہ عاجز اس وقت نفلوں میں التحیات پڑھ رہا تھا۔حکیم مولوی محمد الدین صاحب مرحوم امیر جماعت گوجرانوالہ نے اس عاجز کی طرف