سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 176 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 176

سیرت المہدی 176 حصہ چہارم حضور کے مسجد میں قدم رکھتے ہی بندہ عاشقانہ وار آپ سے بغل گیر ہو گیا اور کئی منٹوں تک حضور کے سینہ مبارک سے اپنا سینہ لگا کر بغل گیر رہا۔جب بہت دیر ہوگئی تو میں نے خود ہی دل میں آپ کو تکلیف ہونے کے احساس کو پا کر اپنے آپ کو آپ سے الگ کیا ( یہ واقعہ بیان کرنے کی غرض محض آپ کے اسوہ حسنہ پر تبصرہ ہے ) پھر حضور اپنی نشست گاہ میں جو مسجد مبارک کے شمال مغربی گوشہ میں واقعہ تھی تشریف لے گئے۔ان دنوں مسجد مبارک ایک ایسے تنگ مگر لمبے کمرہ کی صورت میں تھی جس کا یہ عالم تھا کہ ہر صف میں غالباً چھ یا سات آدمی دوش بدوش کھڑے ہو سکتے ہوں گے۔اور اپنی نشست گاہ پر فروکش ہوئے۔1264 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دارالفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن حضور نماز پڑھ کر گھر کو تشریف لے جارہے تھے جب مسجد سے نکل کر دوسرے کمرہ میں تشریف لے گئے تو میں نے عرض کی کہ حضور میں نے کچھ عرض کرنی ہے۔حضور وہاں ہی بیٹھ گئے اور میں بھی بیٹھ گیا اور پاؤں دباتا رہا۔بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔میں نے اس وقت کچھ خوا ہیں اپنی اور کچھ خوا ہیں بیوی کی عرض کیں اور کچھ دینی و دنیاوی بھی باتیں ہوتی رہیں اور بہت دیر تک وہاں بیٹھے رہے۔میں نے خیال کیا کہ حضور نے تو خواہ کتنا ہی وقت گذر جاوے، کچھ نہیں کہنا اور آپ کا میں قیمتی وقت کیوں خرچ کر رہا ہوں۔چنانچہ بہت دیر کے بعد میں نے عرض کی کہ حضور مجھ کو اجازت فرما دیں۔حضور نے فرمایا بہت اچھا جاؤ۔" 1265 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس روز حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور ان کا جنازہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں رکھا گیا۔جس وقت حضور نماز جنازہ پڑھانے کے لئے باہر تشریف لائے۔میں اس وقت مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے نیچے جو میدان ہے وہاں کھڑا تھا۔اس وقت آپ اگر چہ ضبط کو قائم رکھے ہوئے تھے لیکن چہرہ مبارک سے عیاں ہو رہا تھا کہ آپ اندر سے روتے ہوئے آرہے ہیں۔1266 ﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے