سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 175
سیرت المہدی 175 حصہ چہارم 1262 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور اپنے خادموں کی جدائی (وفات وغیرہ) پر صدمہ محسوس فرماتے تھے۔چنانچہ جس روز میاں محمد اکبر صاحب تاجر چوب بٹالہ فوت ہوئے۔وہ جمعہ کا دن تھا۔مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری ( جو آج کل کشمیری ہائی کورٹ میں وکیل ہیں) نے مسجد اقصیٰ میں بعد نماز جمعہ حضور کی خدمت میں ایک نظم خود تیار کردہ سنانے کے لئے عرض کی تو حضور نے فرمایا کہ آج محمد اکبر فوت ہو گیا ہے۔اس وقت میری طبیعت سننا نہیں چاہتی۔“ 1263 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں احمد الدین صاحب ولد محمد حیات صاحب سابق ساکن چوکنا نوالی (گجرات) نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں اور میرے والد صاحب جن کا نام محمد حیات تھا اور ایک اور دوست جن کا نام غلام محمد صاحب احمدی ( جواب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہیں ) اپنے گاؤں چوکنا نوالی ضلع گجرات پنجاب سے غالباً ۱۹۰۵ء میں حضرت اقدس کی زیارت کے لئے دارالامان میں حاضر ہوئے تھے اور مسجد مبارک میں ظہر کی نماز کے لئے گئے تا بیعت بھی ہو جائے اور نماز بھی حضرت اقدس کے ہمراہ ادا کرلیں اور زیارت بھی نصیب ہو۔گو اس سے پہلے کئی سال آپ کی تحریری بیعت سے بندہ شرف یافتہ تھا جس کا سنہ یاد نہیں۔لیکن زیارت کا شرف حاصل نہ تھا۔چنانچہ ایک شخص نے جو کہ ہمارے ہی ضلع کے تھے فرمایا کہ آپ لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کرنی ہو تو مسجد مبارک میں ظہر کی نماز کے وقت سب سے پہلے حاضر ہو جاؤ۔وہ دوست بھی مہمان خانہ میں موجو د تھے۔چنانچہ ہم ہر سہ اشخاص وضو کر کے مسجد مبارک میں چلے گئے۔ہم سے پہلے چند ایک دوست ہی ابھی حاضر ہوئے تھے جن میں ہم شامل ہو گئے اور سب دوست اس بدر منیر چودھویں کے چاند کی زیارت اور درشن کا عاشقانه وارا انتظار کر رہے تھے جن میں کمترینان بھی شامل تھے۔بندہ عین اس کھڑکی کے پاس بیٹھ گیا جہاں سے حضرت اقدس علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف لایا کرتے تھے۔تھوڑی انتظار کے بعد اس آفتاب ہدایت نے اپنے طلوع گاہ سے اپنے منور چہرہ کو دکھا کر ہمارے دلوں کی زمین پر سے شکوک وشبہات کی تاریکیوں کو پاش پاش کر کے جملہ نشیب و فراز عملی و اخلاقی کو دکھا دیا اور اپنے درشنوں سے بہرہ ور فرمایا۔