سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 145 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 145

سیرت المہدی 145 حصہ چہارم کے رو برو بیان کر دیا کریں۔تاکہ ہماری باتیں طلباء کے دل ودماغ میں نقش ہو جائیں۔ورنہ جو کتب مولویوں کے مقابلہ میں لکھی گئی ہیں وہ بچوں کے فہم سے بالا تر ہوتی ہیں۔1199 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ دوران قیام مقدمہ کرم دین حضور علیہ السلام کچہری گورداسپور کی عمارت کے متصل پختہ سڑک کے کنارے ٹالیوں کے نیچے دری کے فرش پر تشریف فرما ہوا کرتے تھے۔جس روز کا یہ واقعہ ہے۔حضور لیٹے ہوئے تھے۔اور سڑک کی طرف پشت تھی۔ڈپٹی کمشنر انگریز تھا اور وہ اپنی کوٹھی کو اسی طرف سے جاتا تھا۔میں نے دیکھا کہ وہ اس گروہ کی طرف دیکھتا ہوا جاتا تھا۔اور ہماری جماعت سے کوئی تعظیماً کھڑا نہیں ہوتا تھا۔میں نے یہ دیکھ کر حضرت سے عرض کی کہ حضور ! ڈپٹی کمشنر ادھر سے ہمارے قریب سے گزرتا ہے اور کل بھی اس نے غور سے ہم لوگوں کی طرف دیکھا۔آج بھی ہم میں سے کوئی تعظیم کے لئے نہیں اُٹھا ہے۔حضور نے فرمایا کہ وہ حاکم وقت ہے۔ہمارے دوستوں کو تعظیم کے لئے کھڑا ہونا چاہئے۔پھر اس کے بعد ہم برابر تعظیماً کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور اس کے چہرہ پر اس کے احساس کا اثر معلوم ہوتا تھا۔اسی مقدمہ کے دوران ایک مرتبہ حضور گورداسپور کی کچہری کے سامنے ٹالیوں کے سایہ کے نیچے تشریف فرما تھے۔عدالت کا اول وقت تھا۔اکثر حکام ابھی نہیں آئے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم نے مجھے فرمایا۔چلئے۔حج خدا بخش صاحب سے مل آئیں۔میں ان کے ہمراہ حجج صاحب کے اجلاس میں چلا گیا۔وہ خود اور ان کے پیشکار ( ریڈر ) محمد حسین جن کو لوگ محمد حسین خشکی کے نام سے ذکر کیا کرتے تھے۔اجلاس میں تھے۔غالباً اور کوئی نہ تھا۔محمد حسین نے خواجہ صاحب سے مقدمہ کرم دین کا ذکر چھیڑا۔غالباً وہ اہلحدیث فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور کہا کہ مرزا صاحب نے یہ کیا کیا کہ مقدمہ کا سلسلہ شروع کر لیا ہے۔صلح ہو جانی چاہئے۔حج صاحب نے بھی خواجہ صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب کی شان کے خلاف ہے۔مقدمہ بازی بند ہونا چاہئے اور باہمی صلح آپ کرانے کی کوشش کریں۔حضرت سے اس بارہ میں ضرور کہیں اور میری جانب سے کہیں۔خواجہ صاحب نے کہا کہ خواہش تو میری بھی یہی ہے اور یہ اچھا ہے۔میں آپ کی طرف سے حضرت کی خدمت میں عرض کروں گا۔یہ کہہ کر خواجہ صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے سامنے مجھ