سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 144 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 144

سیرت المہدی 144 حصہ چہارم ترک دنیا سے ایسی تکلیف ہوتی ہے جیسے کسی کے جوڑ اور بندا کھاڑے جائیں اور ام الخبائث اس لئے کہا کہ جس طرح ماں جننے کے بعد تمام آلائشوں کو باہر نکال دیتی ہے۔اسی طرح ترک دنیا بھی انسان کی تمام روحانی آلائشوں کو باہر نکال دیتی ہے۔قبلة العـذاری سے مراد ہے دنیا کی عیش و عشرت۔پس حافظ صاحب کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو حاصل کرنے کی نسبت ہمیں ترک دنیا زیادہ پسندیدہ ہے۔(1197 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ کانگڑہ والے زلزلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں چلے گئے تھے۔انہی دنوں باغ میں حضرت صاحب کو الہام ہوا۔تین بڑے آدمیوں میں سے ایک کی موت عصر کی نماز جب ہو چکی۔دوست چلے گئے۔مولوی عبد الکریم صاحب مصلی پر بیٹھے رہے۔میں ان کے پاس مصلے کے کنارہ پر جا بیٹھا، اور کہا کہ سنا ہے کہ آج یہ الہام ہوا ہے۔مولوی صاحب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔لیکن کسی قسم کی بات نہ کی۔میں تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا گیا۔میرے خیال میں تین بڑے آدمی یہ تھے۔حضرت خلیفہ اول ، مولوی عبد الکریم صاحب، مولوی محمد احسن صاحب، چند روز بعد مولوی عبد الکریم صاحب کی پشت پر ایک پھنسی نکلی جو بڑھتے بڑھتے کار بنکل بن گئی۔غرض اس الہام کے بعد قریباً ڈیڑھ ماہ میں مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہو گئے اور پیشگوئی نہایت صاف طور پر پوری ہوئی۔1198 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر عبد الرحمن صاحب بی۔اے نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ مدرسہ احمدیہ کے مکان میں جہاں پہلے ہائی سکول ہوا کرتا تھا۔ایک گھنٹہ کے قریب لیکچر دیا۔بعد میں آپ کی تحریک سے حضرت مولوی عبدالکریم اور حضرت خلیفہ امسیح الاول ہفتہ وار ایک ایک گھنٹہ لیکچر طلباء کے سامنے دیا کرتے تھے۔اسی سلسلہ میں آپ نے فرمایا۔ہم جو تصانیف کرتے ہیں۔یہ علماء زمانہ کے مقابلہ اور مخاطبت میں لکھی گئی ہیں۔ان کتابوں کو طلباء نہیں سمجھ سکتے۔ان دنوں ان کے کورس بھی اتنے لمبے ہیں کہ طلباء کو فرصت ہی نہیں ملتی کہ تالیفات کو پڑھنے کی فرصت پاسکیں۔اس لئے میں یہی کہتا ہوں اور پھر پھر کہتا ہوں کہ سکولوں کے ماسٹر صاحبان میری کتابوں کے چند صفحات مطالعہ کر لیا کریں اور ان کا خلاصہ سہل اور آسان الفاظ میں طلباء