سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 137
سیرت المہدی 137 حصہ چہارم سے گرنے والی پیشگوئی ظاہری رنگ میں پوری ہوئی۔میرا مطلب اس بیان کرنے سے یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا علم مجھے بھی تھا۔1183 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولا بخش صاحب پنشنر کلرک آف کورٹ نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ جن دنوں مولوی کرم دین سکنہ بھین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مقدمہ فوجداری دائر کیا ہوا تھا۔حضرت صاحب اس کے متعلق اپنا الہام شائع کر چکے تھے کہ ہمارے لئے ان مقدمات میں بریت ہوگی۔لیکن جب ایک لمبی تحقیقات کے بعد مقدمہ کا فیصلہ ہوا کہ آتما رام مجسٹریٹ نے حضور کو پانچ سو روپیہ جرمانہ کی سزا دی۔اس سے فوراً ہی بعد ایک اور مقدمہ کی پیشی کے لئے حضور جہلم تشریف لے جارہے تھے۔جماعت امرتسر ریلوے سٹیشن پر حاضر ہوئی۔میں بھی موجود تھا۔اس وقت میاں عزیز اللہ صاحب منٹو کیل احمدی نے عرض کیا۔کہ حضور لوگ ہم کو بہت تنگ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الہامات غلط ہو گئے۔بریت نہ ہوئی۔حضور کا چہرہ جوش ایمان سے اور منور ہو گیا۔اور نہایت سادگی سے فرمایا ی شتاب کا رلوگ ہیں۔ان کو انجام دیکھنا چاہئے۔چنانچہ بعد میں اپیل میں حضور بری ہو گئے۔1184 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محمد حسین صاحب پنشنر دفتر قانون گو نے بواسطه مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بیان کیا۔کہ جنوری ۱۹۰۷ء کا واقعہ ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام احمد یہ چوک سے باہر سیر کو تشریف لے جارہے تھے۔اور میں بھی ساتھ تھا۔حضور نے فرمایا کہ آج سعد اللہ لدھیانوی کی موت کی اطلاع آئی ہے اور آج عید کا دوسرا دن ہے۔ہمارے لئے خدا تعالیٰ نے نشان پورا فرمایا۔اگر چہ کسی کی موت کی خوشی نہیں ہوتی۔لیکن خدا تعالیٰ کے نشان سے خوشی ہوتی ہے اور اس لئے آج ہمارے لئے دوسری عید ہے۔1185 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی عبد اللہ صاحب بوتالوی نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ ۱۹۰۵ء میں میں پہلی مرتبہ قادیان آیا اور اکیلے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔حضور اس وقت مسجد مبارک میں محراب کی جانب پشت کئے ہوئے بیٹھے تھے اور خاکسار حضور کے سامنے بیٹھا تھا۔حضور نے اپنا دایاں ہاتھ اوپر رکھ کر میرے دائیں ہاتھ کو پکڑا تھا۔حضور کا ہاتھ بھاری اور پر گوشت تھا۔