سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 136 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 136

سیرت المہدی 136 مه چهارم حصہ عربی قصیدہ نظم کرنا شروع کیا۔رتھ خوب ہلتی تھی۔اس حالت میں حضور نے دو تین شعر بنائے۔1180 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مسجد مبارک میں جو بھی وسیع نہیں ہوئی تھی۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور سید محمد علی شاہ صاحب رئیس قادیان مرحوم اور میں ، صرف ہم تینوں بیٹھے تھے۔مولوی صاحب نے شاہ صاحب موصوف کو مخاطب کر کے کہا کہ شاہ صاحب ! حضرت صاحب دے پرانے زمانے دی کوئی گل سناؤ۔شاہ صاحب نے ایک منٹ کے وقفہ کے بعد کہا کہ اس پاک زاد دا کی پکچھ دے اؤ اس کے بعد ایک قصہ سنایا کہ ایک دفعہ ڈپٹی کمشنر کی آمد تھی۔اور بڑے مرزا صاحب صفائی اور چھڑ کا ؤ کرارہے تھے۔تو میرے اس کہنے پر کہ آپ خود تکلیف کیوں اُٹھاتے ہیں۔بڑے مرزا صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر ایک حجرے کے دروازے پر گئے۔اندر حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے اور تین طرف تین ڈھیر کتابوں کے تھے اور ایک کتاب ہاتھ میں تھی اور پڑھ رہے تھے۔مرزا صاحب نے کہا۔آؤ دیکھ لو یہ حال ہے اسدا۔میں اس نوں کم کہہ سکدا ہاں؟ میرے اس بیان کرنے سے یہ مطلب ہے کہ قادیان کے پرانے لوگ بھی حضرت صاحب کو باخدا سمجھتے تھے۔1181 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب ڈوئی امریکہ کا رہنے والا مطابق پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوا۔تو میں نے اسی دن ، جب یہ خبر آئی حضور سے عرض کیا کہ حضور ڈوئی مر گیا؟ فرمایا ہاں میں نے دعا کی تھی، یہ میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ وہ پیشگوئی جو دعا کے بعد الہام ہو کر پوری ہو وہ بہ نسبت اس پیشگوئی کے جس میں دعا نہ ہو اور صرف الہام ہو کر پوری ہو، خدا تعالیٰ کی ہستی کو زیادہ بہتر طور پر ثابت کرنے والی ہے۔کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ کا متکلم ہونے کے علاوہ سمیع اور مجیب ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔1182 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس دن حضرت خلیفہ اول گھوڑے سے گرے۔ڈریس کے بعد جب چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔تو میں نے نزدیک ہو کر کہا کہ مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ گھوڑے