سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 135
سیرت المہدی 135 حصہ چہارم مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ خاکسار۱۹۰۷ء میں جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے قادیان حاضر ہوا۔ایک رات میں نے کھانا نہ کھایا تھا اور اس طرح چند اور مہمان بھی تھے۔جنہوں نے کھانا نہ کھایا تھا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا یا ایها النبي اطـعـمـوا الجائع والمعتر منتظمین نے حضور کے بتلانے پر مہمانوں کو کھانا کھانے کے لئے جگایا۔خاکسار نے بھی ان مہمانوں کے ساتھ بوقت قریباً ساڑھے گیارہ بجے لنگر میں جا کر کھانا کھایا۔اگلے روز خاکسار نے یہ نظارہ دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دن کے قریب دس بجے مسجد مبارک کے چھوٹے زینے کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور حضور کے سامنے حضرت مولوی نورالدین خلیفہ اول کھڑے ہوئے تھے۔اور بعض اور اصحاب بھی تھے۔اس وقت حضور کو جلال کے ساتھ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انتظام کے نقص کی وجہ سے رات کو کئی مہمان بھوکے رہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ الہام کیا۔"یا ایها النبي اطعموا الجائع والمعتر 1177 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر محمد اسحاق صاحب فاضل نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں ایک خط لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں گیا۔حضور اس وقت اس دالان میں جو بیت الدعا کے متصل ہے، زمین پر بیٹھ کر اپنا ٹرنک کھول رہے تھے۔اس لئے مجھے فرمایا کہ خط پڑھو ، اس میں کیا لکھا ہے میں نے حضور کو وہ خط پڑھ کر سنایا۔حضور نے فرمایا کہ کہد دو کہ خضر انسان تھا۔وہ 66 فوت ہو چکا ہے۔1178 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر محمد اسحاق صاحب فاضل نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ ایک دفعہ لاہور میں مستری موسیٰ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور ! غیر احمدی کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا اور یہ کہ حضور جب قضائے حاجت کرتے تو زمین اسے نگل جاتی۔جواب میں حضور نے ان دونوں باتوں کی صحت سے انکار کیا۔1179 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر محمد اسحاق صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بٹالہ ایک گواہی کے لئے گئے۔یہ سفر حضور نے رتھ میں کیا۔میں بھی علاوہ اور بچوں کے حضور کے ہمراہ رتھ میں گیا۔راستہ میں جاتے وقت حضور نے اعجاز احمدی کا مشہور