سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 124 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 124

سیرت المہدی 124 حصہ چہارم اس کے منکر جو بات کہتے ہیں یونہی اک واہیات کہتے ہیں بات جب ہو کہ میرے پاس آئیں میرے منہ پر وہ بات کر جائیں مجھ سے اس دلستاں کا حال سنیں مجھ سے وہ صورت و جمال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ سہی یونہی امتحان سہی وہ کہنے لگا۔اہل زبان اس سے زیادہ اور کیا کہ سکتے ہیں۔جماعت علی شاہ صاحب کے پاس ایک مسمریزم کی کتاب تھی اور وہ کہنے لگے کہ یہ ہمارے کھانے کمانے کا شغل ہے۔1158 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک دفعہ لاہور میں لیکچر تھا تو اس موقعہ پر مولوی عبد الکریم صاحب نے قرآن مجید کی تلاوت کی تھی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مکان کے بالا خانہ میں تشریف فرما تھے جو مسجد احمدیہ کے سامنے ہے۔میں بھی سکول سے رخصت لے کر لاہور پہنچ گیا۔لیکچر کے موقعہ پر ایک عجیب نظارہ تھا۔جگہ جگہ ملاں لوگ لڑکوں کو ہمراہ لئے شور مچاتے پھرتے تھے اور گلا پھاڑ پھاڑ کر کہتے تھے کہ لیکچر میں کوئی نہ جائے مگر وہاں یہ حالت تھی کہ لوگوں کی کثرت کی وجہ سے جگہ ہی نہ ملتی تھی۔حضور کے نورانی چہرہ میں ایک عجیب کشش تھی۔جب حضور تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو بہت شور مچ گیا۔ہر ایک دوسرے کو منع کرتا۔اس پر مولوی عبد الکریم صاحب نے تلاوت شروع کی۔جھٹ خاموشی ہوگئی پھر حضور نے تقریر فرمائی جو آخر تک توجہ سے سنی گئی۔لیکچر سننے کے بعد میں بھی اُس بالا خانہ میں چلا گیا۔جہاں حضور فرش پر ہی بیٹھے ہوئے تھے یا لیٹے ہوئے تھے۔( یہ مجھے یاد نہیں) میں پاؤں دبانے لگ گیا۔اس وقت ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور میں گنڈے تعویذ کرتا ہوں۔میرے لئے کیا حکم ہے۔میرا گزارہ اسی پر ہے مجھے اب یاد نہیں رہا۔کہ حضور نے اس کو کیا جواب دیا۔البتہ ایک مثال حضور علیہ السلام نے جو اس وقت دی تھی وہ مجھے اب تک یاد ہے۔حضور نے فرمایا! کہ دیکھو ایک زمیندار اپنی زمین میں خوب ہل چلاتا ہے اور کھاد بھی خوب ڈالتا ہے اور پانی بھی خوب دیتا ہے اور بیج بھی عمدہ ہوتا ہے۔یہ سب اس کے اپنے اختیار کی باتیں ہیں۔بیج کا اگنا، بڑھنا یہ اس کے اپنے