سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 125 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 125

سیرت المہدی 125 حصہ چہارم اختیار میں نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے خواہ وہ اُگنے ہی نہ دے۔1159) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ لدھیانہ میں تشریف لائے۔رمضان شریف کا مہینہ تھا۔یہ اُس وقت کا واقعہ ہے جب حضور دہلی سے تشریف لائے تھے۔شاید ۱۹۰۵ء کا ذکر ہے یا اس سے پہلے کا۔میں بھی والد صاحب مرحوم کے ساتھ لدھیانہ پہنچ گیا۔گاڑی کے آنے پر وہ نظارہ بھی عجیب تھا۔باوجود مولوی ملانوں کے شور مچانے کے کہ کوئی نہ جائے۔وہ خود ہی زیارت کے لئے دوڑے بھاگے پھرتے تھے۔اسٹیشن کے باہر بڑی مشکل سے حضور علیہ السلام کو بگھی میں سوار کرایا گیا۔کیونکہ آدمیوں کا ہجوم بہت زیادہ تھا۔جائے قیام پر حضور علیہ السلام مع خدام ایک کمرہ میں فرش پر ہی تشریف فرما تھے۔ایک مولوی صاحب نے عرض کی کہ لوگ زیارت کے لئے بہت کثرت سے آ رہے ہیں۔حضور کرسی پر بیٹھ جائیں تو اچھا ہے۔حضور نے منظور فرمالیا۔کرسی لائی گئی۔اور اس پر آپ بیٹھ گئے۔دہلی کے علماء کا ذکر فرماتے رہے۔جو مجھے یاد نہیں۔چونکہ رمضان کا مہینہ تھا۔ہم سب غوث گڑھ سے ہی روزہ رکھ کر لدھیانہ گئے تھے۔حضور نے والد صاحب مرحوم سے خود دریافت فرمایا یا کسی اور سے معلوم ہوا ( یہ مجھے یاد نہیں ) غرض خود کو معلوم ہو گیا کہ یہ سب غوث گڑھ سے آنے والے روزہ دار ہیں۔حضور نے فرمایا میاں عبداللہ ! خدا کا حکم جیسا روزہ رکھنے کا ہے ویسا ہی سفر میں نہ رکھنے کا ہے۔آپ سب روزے افطار کر دیں۔ظہر کے بعد کا یہ ذکر ہے۔اگلے روز حضور کا لیکچر ہوا۔دوران تقریر حضور بار بار عصا پر ہاتھ مارتے تھے۔تقریر کے بعد ایک فقیر نے حضور علیہ السلام کی صداقت کے متعلق ایک خواب بیان کی۔حضور نے قادیان سے حضرت خلیفتہ المسیح اول کو بلانے کا حکم دیا۔چنانچہ وہ بھی جلدی ہی لدھیانہ پہنچ گئے۔حکیم صاحب نے فرمایا۔ہم تو حکم ملتے ہی چلے آئے ، گھر تک بھی نہیں گئے۔1160 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے نکاح کا خطبہ حضرت خلیفہ اسیح الاول نے پڑھا تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود میری اہلیہ کی طرف سے اپنی زبان مبارک سے ایجاب قبول کیا تھا۔کیونکہ حضور ولی