سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 123 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 123

سیرت المہدی 123 حصہ چہارم ہے۔ابھی میں حضور کی قیام گاہ پر جا کر کھڑا ہی ہوا تھا کہ حضور نے مجھے دیکھا بھی نہ تھا اور نہ میں نے حضور کو دیکھا تھا کہ آپ نے فرمایا۔منشی ظفر احمد صاحب کو بلا لو۔میں حاضر ہو گیا۔منشی اروڑ ا صاحب کی عادت تھی کہ حضرت صاحب کے پاس ہمیشہ بیٹھے پیر دا بتے رہتے تھے۔اُس وقت منشی اروڑا صاحب کسی ضرورت کے لئے اُٹھ کر گئے ہوئے تھے۔آپ نے مجھے فرمایا کہ مقدمہ کے متعلق میں کچھ لکھانا چاہتا ہوں آپ لکھتے جائیں اور اس بات کا خیال رکھنا کہ کوئی لفظ خلاف قانون میری زبان سے نہ نکل جائے۔گو میں نے سینکڑوں فیصلے ہائی کورٹوں کے پڑھتے ہیں۔لیکن پھر بھی اگر تمہارے خیال میں کوئی ایسا لفظ ہو تو روک دینا۔غرض آپ لکھاتے رہے اور میں لکھتارہا اور میں نے عرض کی کہ منشی اروڑا صاحب کو قانون کی زیادہ واقفیت ہے۔انہیں بھی بلا لیا جائے۔حضور نے فرمایا کہ وہ مخلص آدمی ہیں اگر ان کو رخصت ملتی تو بھلا ممکن تھا کہ وہ نہ آتے۔میں نے ذکر نہ کیا کہ وہ آئے ہوئے ہیں۔منشی اروڑا صاحب کو جب علم ہوا تو وہ کہنے لگے کہ تم نے کیوں نہ بتایا کہ وہ تو کل کا آیا ہوا ہے۔میں نے کہا۔تم ہمیں اطلاع کر کے کیوں نہ آئے تھے۔اب دیکھ لو۔ہم حاضر ہیں اور آپ غائب ہیں۔غرض ہم اس طرح ہنستے رہتے۔1157 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جماعت علی شاہ صاحب نے منشی فاضل کا امتحان محمد خان صاحب مرحوم کے ساتھ دیا تھا۔اس تعلق کی وجہ سے وہ کپورتھلہ آگئے۔محمد خان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اُن سے ذکر کیا اور کچھ اشعار کا بھی ذکر ہو گیا۔جماعت علی شاہ صاحب نے کہا کہ نظامی سے بڑھ کر فارسی میں کوئی اور لکھنے والا نہیں ہوا۔میں نے کہا کہ کوئی شعر نظامی کا نعت میں سناؤ۔انہوں نے یہ شعر پڑھا فرستاده خاص پروردگار میں نے حضرت صاحب کا یہ شعر انہیں سنایا رساننده حبت استوار صدر بزم آسمان وجہ اللہ بر زمیں ذات خالق را نشان بس بزرگ اُستوار وہ کہنے لگا کہ کوئی اردو کا شعر بھی آپ کو یاد ہے میں نے اس کو قرآن شریف کی تعریف میں حضور کے اشعار سنائے۔