سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 120 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 120

سیرت المہدی 120 حصہ چہارم نہ کچھ دے دیتے۔اور میں وہ کھانا بعض دفعہ خود کھا لیتی اور اکثر دفعہ حافظ حامد علی صاحب کو دے دیتی۔1151) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبد اللہ صاحب سنوری مرحوم مختار عام سنور ریاست پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اس وقت میری عمر قریباً ۴ ۵ سال کی ہے۔میں گو بہت چھوٹی عمر کا بچہ تھا اور ابھی بولنے نہیں لگا تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے گھر سنور تشریف لائے تھے۔مجھے اس وقت کا نظارہ صرف اتنا یاد ہے کہ ہمارے گھر میں کوئی شخص آیا تھا۔لوگوں کا بہت ہجوم تھا اور مجھے گود میں لیا تھا۔اللہ تعالیٰ کا میں ہزار ہزار شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ نعمت مجھے ملی۔شاذ کے طور پر جماعت میں کوئی اور بھی ہوگا جس کو حضور علیہ السلام کی گود میں کھیلنے کا فخر حاصل ہو۔والد صاحب مرحوم نے کئی بار مجھ سے ذکر کیا۔کہ اپنے مکان میں جس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے تھے اس جگہ پر بیٹھ کر دعا کرنے کے لئے احمدیوں کے خطوط آتے رہتے تھے۔مگر میں نے کسی کو اجازت نہیں دی کہ کہیں رفتہ رفتہ رسم نہ ہو جائے۔یا شاید کچھ اور فرمایا تھا مجھے یاد نہیں۔پھر جب میں کچھ بڑا ہو گیا اور سکول میں جانا شروع کر دیا تو میرے طالب علمی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پھر پٹیالہ تشریف لائے۔لوگ زیارت کے لئے جانے شروع ہوئے اور آپس میں باتیں کرتے تھے کہ چلو پٹیالہ میں مرزا صاحب آئے ہوئے ہیں۔اُن کو دیکھنا ہے۔میں نے بڑے تعجب کے ساتھ اُن کو کہا کہ وہ مرزا کیسا ہے جن کو دیکھنے پٹیالہ جانا ہے۔ہمارے محلہ میں بھی تو مرزے رہتے ہیں اُن کو تو دیکھنے کوئی نہیں جاتا ( ہمارے محلہ میں چند مغل رہتے ہیں جن کو مرزا کہتے ہیں) لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے بھی شوق پیدا ہوا۔میں بھی پٹیالہ پہنچ گیا۔جہاں حضور ٹھہرے ہوئے تھے اور آپ کی زیارت کی۔پھر جب میں کچھ اور بڑا ہو گیا اور پانچویں چھٹی جماعت میں تعلیم حاصل کرنے لگا تو لوگوں میں عام چرچا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ہونے لگا۔کوئی اعتراض کرتا ہے، کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔سب کو اپنی اپنی بولیاں بولتے سنا کرتا تھا۔مجھے اس وقت اتنی بھی خبر نہ تھی کہ حضور کا دعویٰ کیا ہے۔اور نہ ہی میں اُن دنوں احمدی ہی ہوا تھا ( اُس زمانہ میں ہم حضرت صاحب کے ماننے والوں کو مرزائی کہا کرتے تھے ) میری طبیعت بہت ڈگمگاتی رہتی تھی۔کبھی مخالفین کی باتوں کا دل پر اثر اور کبھی موافقین کی باتوں کا اثر