سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 119
سیرت المہدی 119 حصہ چہارم نزدیک آپ ایک مہینہ سے آئے ہوئے ہیں۔اور میر حامد شاہ صاحب نے یہ بھی ذکر کیا کہ ایک عورت خادمہ حضور کوکھانا کھلاتی رہتی اور اس کے اولاد نہ تھی۔اس لئے دعا کے لئے عرض کرتی رہی۔ایک دفعہ پھر جو اس نے دعا کے لئے دس پندرہ دن بعد عرض کی۔تو حضور نے فرمایا تم کہاں رہی تھیں۔اس نے کہا میں تو حضور کو دونوں وقت کھانا کھلاتی ہوں۔فرمانے لگے اچھا تم کھانا کھلانے آیا کرتی ہو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور کو ایسا انہماک کبھی کبھی خاص استغراق کے زمانہ میں ہوتا تھا۔ہمیشہ یہ کیفیت نہ ہوتی تھی۔گو ویسے حضرت صاحب کی یہ عام عادت تھی کہ آنکھیں اُٹھا اُٹھا کر ادھر ادھر زیادہ نہیں دیکھا کرتے تھے۔1149 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں ایک دفعہ قادیان میں زیادہ عرصہ تک نمازیں جمع ہوتی رہیں۔مولوی محمد احسن صاحب نے مولوی نور الدین صاحب کو خط لکھا کہ بہت دن نمازیں جمع کرتے ہو گئے ہیں۔لوگ اعتراض کریں گے تو ہم اس کا کیا جواب دیں گے۔حضرت مولوی صاحب نے جواب دیا کہ اُسی سے پوچھو ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے )۔مولوی انوار حسین صاحب شاہ آبادی اس خط و کتابت میں قاصد تھے۔اُن سے مجھے اس کا حال معلوم ہوا۔تو میں نے حضرت صاحب سے جا کر عرض کر دی۔اس وقت تو حضور نے کچھ نہ فرمایا لیکن بعد عصر جب حضور معمولاً مسجد کی چھت پر تشریف فرما تھے تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ایسے اعتراض دل میں کیوں اُٹھتے ہیں۔کیا حدیثوں میں نہیں آیا کہ وہ نماز جمع کرے گا۔ویسے تو نماز جمع کا حکم عام ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کاموں میں اس قدر منہمک ہو گا کہ اس کو نمازیں جمع کرنی پڑیں گی۔اس وقت سید محمد احسن صاحب زار زار رور ہے تھے اور توبہ کر رہے تھے۔1150 بسم الله الرحمن الرحیم۔رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا۔کہ میں اکثر دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھانا پکا کر کھلاتی تھی۔جس دن کوئی اچھا کھانا ہوتا تو آپ اس پر بہت خوش ہوتے۔اور اُس دن مجھے اس میں سے ضرور کچھ