سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 118
سیرت المہدی 118 حصہ چہارم خناطیل مجھے یاد ہے کہ اس کے متعلق بھی پوچھا۔خطبہ ختم ہونے پر جب حضور مکان پر تشریف لائے تو مجھے اور مولوی عبد اللہ صاحب سنوری اور میر حامد شاہ صاحب ہم تینوں کو بلایا اور فرمایا کہ خطبہ کا جواثر ہوا ہے اور جو کیفیت لوگوں کی ہوئی ہے۔اپنے اپنے رنگ میں آپ لکھ کر مجھے دیں۔مولوی عبد اللہ صاحب اور میر صاحب نے تو مہلت چاہی لیکن خاکسار نے اپنے تاثرات جو کچھ میرے خیال میں تھے اسی وقت لکھ کر پیش کر دیئے۔میں نے اس میں یہ بھی لکھا کہ مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب بعض الفاظ دوران خطبہ میں دریافت فرماتے رہے۔وغیرہ۔حضور کو میرا یہ مضمون بہت پسند آیا اس میں لوگوں کی محویت کا عالم اور کیفیت کا ذکر تھا کہ باوجود بعض لوگوں کے عربی نہ جاننے کے وہ سمجھ میں آرہا تھا۔حق بات یہ ہے کہ اس کا عجیب ہی اثر تھا جو ضبط تحریر میں نہیں آسکتا۔دوران خطبہ میں کوئی شخص کھانستا تک نہیں تھا۔غرض حضرت صاحب کو وہ مضمون پسند آیا اور مولوی عبد الکریم صاحب کو بلا کر خود حضور نے وہ مضمون پڑھ کر سنایا اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ خطبہ کے ساتھ اس مضمون کو شائع کر دو۔مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ حضور اس نے تو ہمیں زندہ ہی دفن کر دیا ہے۔(مولوی عبد الکریم صاحب کی خاکسار سے حد درجہ دوستی اور بے تکلفی تھی ) حضرت صاحب نے ہنس کر فرمایا۔اچھا ہم شائع نہیں کریں گے۔پھر میں کئی روز قادیان میں رہا اور خطبہ الہامیہ کا ذکر اذکار ہوتا رہا۔مولوی عبدالکریم صاحب عربی زبان سے بہت مذاق رکھتے تھے۔اس لئے خطبہ کی بعض عبارتوں پر جھومتے اور وجد میں آجاتے تھے اور سناتے رہتے تھے اور اس خطبے کے بعض حصے لکھ کر دوستوں کو بھی بھیجتے رہتے تھے۔1148 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں ایک ماہ تک ٹھہرے رہے۔حضور کا وہاں لیکچر تھا۔عبدالحمید خاں صاحب ، مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی اور خاکسار لیکچر والے دن پہنچے۔تقریر کے ختم ہونے پر میں نے جا کر مصافحہ کیا۔گاڑی کا وقت قریب تھا۔اس لئے رخصت چاہی۔آپ نے فرمایا۔اچھا اب آپ کو ایک ماہ کے قریب یہاں ٹھہرے ہوئے ہو گیا ہو گا۔اچھا اب آپ گھر جائیں۔جب میں اجازت لے کر نیچے اُترا تو سید حامد شاہ صاحب نے کہا کہ ایک مہینے کی خدمت کا ثواب آپ نے لے لیا۔گویا حضور کے