سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 117 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 117

سیرت المہدی 117 حصہ چہارم دیر تک وعظ بھی کیا۔اس کے بعد آپ ایک جگہ پیشاب کرنے لگے تو مہر علی ساکن کرالیاں کو کہا کہ مجھے کوئی ڈھیلا دو۔تو اس نے کسی دیوار سے ایک روڑا توڑ کر دے دیا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ یہ ڈھیلا کہاں سے لیا۔تو اس نے کہا کہ فلاں دیوار سے۔آپ نے فرمایا جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو۔بغیر اجازت دوسرے کی چیز نہیں لینی چاہیئے۔1145 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا ایک دفعہ قحط پڑا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت اُم المومنین سے روپیہ قرض لیا اور گندم خرید کی اور گھر کا خرچ پورا کیا اس کے بعد آپ نے چوہدری رستم علی صاحب سے حافظ حامد علی صاحب کے ذریعہ سے ۵۰۰ روپیہ منگوایا اور کچھ گھی کی چائیاں منگوائیں۔روپیہ آنے پر آپ نے حضرت ام المومنین کا قرض ادا کر دیا اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ حافظ صاحب تھیلیوں کے تھیلے روپوں کے لایا کرتے تھے۔جن کی حفاظت رات کو مجھے کرنی پڑتی تھی۔1146 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المومنین بعض دفعہ حافظ صاحب کے متعلق حضرت جی سے شکایت کرتیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں سودے میں حافظ صاحب نے کچھ پیسے رکھ لئے ہیں۔جس پر ہمیشہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ حافظ صاحب ایسے نہیں۔ہاں سودا مہنگالائے ہوں گے۔1147 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عید الاضحی کے روز مسجد اقصے میں کھڑے ہوکر فرمایا کہ میں الہام چند الفاظ بطور خطبہ عربی میں سنانا چاہتا ہوں۔مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب دونوں صاحب تمام و کمال لکھنے کی کوشش کریں۔یہ فرما کر آپ نے خطبہ الہامیہ عربی میں فرمانا شروع کر دیا۔پھر آپ اس قدر جلدی بیان فرمارہے تھے کہ زبان کے ساتھ قلم کا چلنا مشکل ہو رہا تھا اور ہم نے اس خطبہ کا خاص اثریہ دیکھا کہ سب سامعین محویت کے عالم میں تھے اور خطبہ سمجھ میں آ رہا تھا۔ہر ایک اس سے متاثر تھا۔مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب بعض دفعہ الفاظ کے متعلق پوچھ کر لکھتے تھے۔ایک لفظ