سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 116
سیرت المہدی 116 حصہ چہارم میں خاکسار کو زیادہ متردد اور پریشان دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ جلدی نہیں۔آپ سوچ کر جواب دیں۔تھوڑی دیر سکوت کے بعد خاکسار نے عرض کیا کہ مثلاً معراج کا واقعہ ہے جب کوئی اس پر معترض ہوتا اور اس کے خلاف عقل ہونے کا ادعا کرتا تو جواب میں بڑی مشکل پیش آتی تھی کہ اس کو کیا سمجھائیں کہ براق کس اصطبل سے آیا تھا اور پھر وہ اب کہاں ہے اور وہ پرند۔چرند اور ساتواں آسمان اور عرش معلی کی سیر اور انبیاء سے مکالمات اور عرصہ واپسی اتنا کہ ابھی دروازہ کی زنجیر متحرک تھی۔اور بستر جسم کی حرارت سے ابھی گرم تھا۔لیکن سید صاحب کی تصانیف سے معلوم ہوا کہ وہ صرف ایک خواب تھا۔خواب میں خواہ کچھ سے کچھ عجائبات بلکہ ناممکنات بھی دیکھ لے تو از روئے فلسفہ کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔اس لئے معترض سے جان تو چھوٹ جاتی مگر اپنے دل میں معراج کی جو وقعت اور منزلت ہوتی وہ بھی ساتھ ساتھ اُٹھ جاتی بلکہ سائل اور مجیب ایک ہی رنگ میں ہو جاتے تھے۔لیکن حضور کی تفہیم کے مطابق معراج ایک عالم کشف تھا جس کے مظاہر تعبیر طلب اور اعلیٰ پیشگوئیوں اور اخبار غیب کے حامل ہوتے ہیں۔جس سے معراج کی تو قیر اور قدرومنزلت میں بھی فرق نہیں آنے پاتا اور معترض کو عالم کشف اور روحانی تاثرات سے اپنی لاعلمی کا احساس کرنا پڑتا ہے۔ایسا جواب وہی دے سکتا ہے جو خود صاحب حال اور اس سے بہر ؤ رہو۔اس پر حضور نے ایک بشاش انداز میں حضرت مولوی صاحب کو مخاطب فرمایا کہ مولوی صاحب یہ سب سوالات میں نے آپ کی خاطر کئے ہیں تا آپ کو معلوم ہو جائے کہ چونکہ ان کو ایک بات کی تلاش اور دل میں اس کے لئے تڑپ تھی اس لئے خدا نے آیت وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِ يَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: ۷۰) کے مطابق ان کو اپنے مطلوب تک پہنچا دیا۔بڑی مشکل یہی ہے کہ لوگوں میں حق کی تلاش ہی نہیں رہی۔اور جب خواہش اور تلاش ہی کسی شخص کے دل میں نہ ہوتو اچھے اور برے کی تمیز کیسے ہو۔1144 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے گاؤں موضع کرالیاں میں تشریف لائے۔میاں چراغ دین ساکن تھصہ غلام نبی نے اپنی بیوی مسماۃ حسو کو طلاق دے دی ہوئی تھی۔حضرت جی وہاں صلح کرانے گئے تھے تو وہاں جا کر رات رہے اور دوبارہ نکاح کرا دیا۔اور رات کو