سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 115
سیرت المہدی 115 حصہ چہارم خاکسار نے ذرا تامل کے بعد عرض کیا کہ ایک پڑھا لکھا گھرانہ ہونے اور اکثر ذی علم اشخاص کی آمد ورفت اور علمی اور اخباری تذکروں کے ہمیشہ سنتے رہنے کی وجہ سے طبیعت کی افتاد ہی کچھ ایسی پڑ گئی تھی کہ سکول میں سیر وغیرہ میں جو ہم جماعت، ہم عمر لڑ کے ملتے۔بعض اوقات ان کے کسی مذہبی عقیدہ پر اعتراض کیا جاتا اور وہ اگر کسی اسلامی عقیدہ پر اعتراض کر دیتے تو ان کو جواب دینے کی کوشش کرتے۔وہ لوگ چونکہ اپنے بڑوں سے سنے ہوئے فلسفہ یا سائنس کے تحت میں اعتراض کرتے تو بعض اوقات اپنا جواب خود بہت پست اور عقل کے خلاف معلوم ہوتا۔اگر پرانی قسم کے مولویوں سے اس کے متعلق استفسار کرتے تو وہ جواب دینے کی بجائے ایسے بحث و مباحثہ سے منع کر دیتے۔یہ بات بس کی نہ تھی۔آخر جب سید صاحب کے اشخاص سے اس کا ذکر آتا تو وہ بحوالہ تصانیف سرسید ایسا جواب دیتے جو بظاہر معقول دکھائی دیتا۔اس وجہ سے سید صاحب کی کتب کو دیکھنے کا شوق پیدا ہونا لازمی امر تھا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ ہماری تصانیف بھی کبھی آپ نے دیکھی ہیں۔خاکسار نے عرض کیا کہ حضور عربی کتب تو خاکسار نہیں دیکھ سکا البتہ جو کتابیں اردو میں شائع ہوتی ہیں ان کو میں اکثر منگا کر دیکھتا ہوں۔اس پر حضور نے فرمایا۔اچھا یہ بتاؤ کہ ہماری تعلیم اور سید صاحب کی تعلیم میں آپ نے کیا فرق اور امتیاز محسوس کیا۔حضور کے اس سوال پر ایک تردد سا پیدا ہوا اور دل میں خیال آیا۔کہ مولوی صاحب نے آج امتحان کا پرچہ ہی دلا دیا۔اور بعد تأمل کے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھ جیسا محدود العلم اس فرق کو کیا بیان کرسکتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ ہماری غرض کوئی علمی فرق یا عالمانہ رائے دریافت کرنے کی نہیں بلکہ صرف یہ بات معلوم کرنی چاہتے ہیں کہ ہر دو تصانیف کے مطالعہ سے جو کیفیت آپ کے دل نے محسوس کی اس میں آپ کیا تمیز کرتے ہیں۔کچھ دیر تأمل کرنے کے بعد خاکسار نے عرض کیا کہ فلسفیانہ اعتراضات کے جوابات جو سید صاحب نے دیئے ہیں۔ان کا نتیجہ بطور مثال ایسا ہے جیسے ایک پیاسے کو پانی کی تلاش میں جنگل میں کہیں تھوڑ اسا پانی مل جائے جس کے دو چار گھونٹ پی کر صرف اس کی جان کنی کی مصیبت سے بچ جائے اور بس۔لیکن حضور کے کلام کا یہ عالم ہے کہ جیسے پیاسے کے لئے دودھ کا گلاس جس میں برف اور کیوڑہ پڑا ہوا ہو۔وہ مل جائے۔اور وہ سیر ہوکر مسرور اور شادماں ہو جائے۔یہ سن کر حضور نے فرمایا کہ اچھا کوئی مسئلہ بطور مثال بیان کرو۔اس کے جواب