سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 5 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 5

سیرت المہدی 5 حصہ چہارم 1984 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ کپورتھلہ میں حکیم جعفر علی ڈاکٹر صادق علی کے بھائی تھے۔جماعت کپورتھلہ جلسہ پر قادیان جارہی تھی۔جعفر علی نے کہا کہ لنگر خانہ میں پانچ روپیہ میری طرف سے حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کئے جائیں۔وہ روپے منشی ظفر احمد صاحب کا تب جنگ مقدس نے حضور کی خدمت میں پیش کئے۔مگر حضور نے قبول نہ فرمائے۔دوسرے دن دوبارہ پیش کئے۔فرمایا۔یہ روپے لینے مناسب نہیں ہیں۔تیسرے دن منشی ظفر احمد صاحب نے پھر عرض کی کہ بہت عقیدت سے روپے دیئے گئے ہیں۔اس پر فرمایا: تمہارے اصرار کی وجہ سے رکھ لیتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی ظفر احمد صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاص محنتوں میں سے تھے اور مجھے ان کی محبت اور اخلاص کو دیکھ کر ہمیشہ ہی رشک آیا۔1985 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ کپورتھلہ میں ایک شخص شرابی ، فاسق وفاجر تھا۔ایک رات وہ کسی جگہ سے شب باش ہو کر آیا۔راستہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مکان میں وعظ فرمارہے تھے۔یہ شخص بھی وعظ کا سن کر وہاں آ گیا۔وعظ میں حضور علیہ السلام افعال شنیعہ کی بُرائی بیان فرما رہے تھے۔اس شخص نے مجھ سے کہا۔حضرت صاحب کے وعظ کا میرے دل پر گہرا اثر ہوا ہے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ لوگوں کو مخاطب کر کے مجھے سمجھا رہے ہیں۔اُس دن سے اُس نے توبہ کی۔شراب وغیرہ چھوڑ دی اور پابند صوم وصلوٰۃ ہو گیا۔1986 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مسجد کپورتھلہ حاجی ولی اللہ غیر احمدی لا ولد نے بنائی تھی۔اس کے دو برادر زادے تھے۔انہوں نے حبیب الرحمن صاحب کو مسجد کا متولی قرار دیا اور رجسٹری کرا دی۔متولی مسجد احمدی ہو گیا۔جب جماعت احمدیہ کو علیحدہ نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔تو احمدیوں اور غیر احمدیوں میں اختلاف پیدا ہو گیا۔غیر احمدیوں نے حکام بالا اور رؤسائے شہر کے ایماء سے مسجد پر جبراً قبضہ کر لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم کوحکم دیا کہ اپنے حقوق کو چھوڑ نا گناہ ہے۔عدالت میں چارہ جوئی کرو۔اس حکم کے ماتحت ہم نے عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔یہ مقدمہ سات برس تک چلتا رہا۔ان ایام میں جماعت احمد یہ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتی تھی۔خاکسار ہمیشہ حضور کی