سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 6
سیرت المہدی 6 حصہ چہارم خدمت میں دعا کے لئے عرض کرتا رہتا تھا۔ایک دفعہ حضور دہلی سے قادیان واپس آرہے تھے کہ لدھیانہ میں حضور کا لیکچر ہوا۔لیکچر سننے کے لئے خاکسار اور منشی عبدالرحمن صاحب مرحوم لدھیانہ گئے۔لیکچر ختم ہونے پر خاکسار نے مسجد کپورتھلہ کے واسطے دعا کی درخواست کی۔حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے تو مسجد تمہارے پاس واپس آجائے گی اس وقت چہرہ مبارک پر ایک جلال رونما تھا۔اس پیشگوئی کو سن کر بہت خوشی ہوئی۔جس کا اظہار اخباروں میں بھی ہو گیا۔میں نے تحریر و تقریر میں ہر ایک مدعاعلیہ سے اس پیشگوئی کا اظہار کر دیا۔اور میں نے تحدی کے ساتھ مد عالیھم پر حجت تمام کر دی کہ اپنی ہر ممکن کوشش کر لو۔اگر چہ حکام بھی غیر احمدی ہیں جن پر تم سب کو بھروسہ ہے مگر مسجد ضرور ہمارے پاس واپس آئے گی۔میرے اس اصرار پر ڈاکٹر شفاعت احمد کپورتھلہ نے وعدہ کیا کہ اگر مسجد تمہارے پاس واپس چلی گئی تو میں مسیح موعود پر ایمان لے آؤں گا۔میں ایک مرتبہ ضرور تالا ہور گیا اور جمعہ ادا کرنے کے لئے احمد یہ مسجد میں چلا گیا۔خواجہ کمال الدین صاحب سے اس پیشگوئی کا ذکر آ گیا۔انہوں نے کہا کہ منبر پر چڑھ کر سب کو سنا دو۔میں نے مفصل حال اور یہ پیشگوئی احباب کو سنادی تا کہ پیشگوئی پورا ہونے پر جماعت کی تقویت ایمان کا باعث ہو۔پہلی اور دوسری دو عدالتوں میں باوجود مد عاعلیہم کی کوشش وسعی کے مقدمہ احمدیوں کے حق میں ہوا۔ڈاکٹر صادق علی ان ہر دو حکام کا معالج خاص تھا۔اور اس نے بڑی کوشش کی۔آخر اس کی اپیل آخری عدالت میں دائر ہوئی۔یہ حاکم غیر احمدی تھا۔مقدمہ پیش ہونے پر اُس نے حکم دیا کہ یہ مسجد غیر احمدی کی بنائی ہوئی ہے۔اس مسجد میں احمدیوں کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ احمدی جماعت نے جدید نبی کے دعوئی کو قبول کر لیا ہے۔اس لئے وہ اپنی مسجد علیحدہ بنا ئیں۔پرسوں میں حکم لکھ کر فیصلہ سناؤں گا۔“ ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب نے مجھ سے کہا۔کہو صاحب ! مرزا صاحب کی پیشگوئی کہاں گئی ؟ مسجد کا فیصلہ تو تم نے سن لیا۔میں نے اس کو جواب دیا۔کہ شفاعت احمد! ابھی دو تین روز درمیان میں ہیں۔اور ہمارے اور تمہارے درمیان احکم الحاکمین کی ہستی ہے۔اس بات کا انتظار کرو کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔یاد رکھو۔زمین و آسمان ٹل جائیں گے مگر خدا کی جو باتیں مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے نکل چکی ہیں وہ نہیں ملیں گی۔میری اس تحدّی سے وہ حیرت زدہ ہو گیا۔رات کو حبیب الرحمن متولی مسجد نے خواب میں دیکھا اور جماعت