سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 4
سیرت المہدی 4 حصہ چہارم ملاحظہ فرمالیں۔مسیح موعود علیہ السلام نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں ، آرام ہو جائے گا۔اس کے بعد اس کی والدہ لڑکے کو لے کر گھر واپس چلی آئی۔پھر میں ہر مشہور ڈاکٹر اور طبیب سے لڑکے کا علاج کروا تا رہا۔آخر قصبہ ہا پر ضلع میرٹھ میں ایک طبیب کے پاس گیا۔اس نے نسخہ تجویز کیا اور رات کو اپنے سامنے کھلایا۔اس وقت لڑکے کو نہایت سختی کے ساتھ دورہ ہو گیا۔طبیب اپنے گھر کے اندر جا کر سو گیا۔اور ہم دونوں باہر مردانہ میں سو گئے۔صبح ہوئی نماز پڑھی۔طبیب بھی گھر سے باہر آیا۔طبیب نے کہا کہ رات کو میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب دی گئی۔جب میں نے اس کو کھولا تو اس کے شروع میں لکھا ہوا تھا۔اس مرض کا علاج املی ہے۔چھ سات سطر کے اندر یہی لکھا ہوا تھا کہ اس مرض کا علاج سوائے املی کے دنیا میں اور کوئی نہیں۔طبیب نے کہا کہ نہ تو میں مرض کو سمجھا اور نہ علاج کو۔میں نے تمہیں اپنا خواب سنا دیا ہے۔میں نے طبیب کے اس خواب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بشارت کے مطابق خدا کی طرف سے الہام سمجھا اور لڑکے کو لے کر گھر چلا آیا۔املی کا استعمال شروع کر دیا۔رات کو چار تولہ بھگو دیتا تھا۔صبح کو چھان کر دو تولہ مصری ملا کر لڑ کے کو پلا دیتا تھا۔دو ہفتہ کے اندر اُس مرض سے لڑکے نے نجات پالی۔اور اس وقت خدا کے فضل سے گریجویٹ ہے اور ایک اچھے عہدہ پر ممتاز ہے۔1982 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب کپورتھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ریاست کپورتھلہ میں ڈاکٹر صادق علی صاحب مشہور آدمی تھے اور راجہ صاحب کے مصاحبین میں سے تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بیعت کی درخواست کی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کو بیعت کی کیا ضرورت ہے۔دوبارہ اصرار کیا۔فرمایا آپ تو بیعت میں ہی ہیں۔مگر باوجود اصرار کے بیعت میں داخل نہ فرمایا۔نہ معلوم کہ اس میں کیا مصلحت تھی۔983 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کپورتھلہ تشریف لائے تو ایک شخص مولوی محمد دین آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیعت کی درخواست کی۔حضور نے جواب دیا۔آپ سوچ لیں۔دوسرے دن اس نے عرض کی تو پھر وہی جواب ملا۔تیسرے دن پھر عرض کی۔فرمایا آپ استخارہ کر لیں۔غرض اس طرح ان مولوی صاحب کی بیعت قبول نہ ہوئی۔