سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 110 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 110

سیرت المہدی 110 حصہ چہارم صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ الہام ہوا کہ تمہارا اور تمہارے ساتھی کا کچھ نقصان ہوگا۔تو حضرت صاحب نے حافظ حامد علی صاحب سے فرمایا کہ مجھے اس طرح الہام ہوا ہے دعا کرنا۔چند دن بعد آپ حافظ حامد علی صاحب کو ہمراہ لے کر پیدل ہی گاؤں کے راستہ سے گورداسپور تشریف لے گئے تو راستہ میں کسی بیری کے نیچے سے حافظ صاحب نے کچھ بیر اٹھا کر کھانے شروع کر دیئے۔تو حضرت جی نے فرمایا کہ یہ کس کی بیری ہے۔حافظ صاحب نے کہا کہ پتہ نہیں۔جس پر حضرت جی نے فرمایا کہ پھر بغیر اجازت کے کس طرح کھانا شروع کر دیا جس پر حافظ صاحب نے وہ سب بیر پھینک دیئے اور آگے چل دیئے۔اس سفر میں حضرت صاحب کا روپوں والا رومال اور حافظ صاحب کی چادر گم ہوگئی۔1139 بسم الله الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر تشریف لے جارہے تھے۔کرنا کھلا ہوا تھا اور بہت مہک رہا تھا۔آپ نے فرمایا! کہ دیکھ کرنا اور کہنا اس میں بڑا فرق ہے۔حضور نے فرمایا۔پنجاب میں کہنا مکڑی کو کہتے ہیں ( یعنی کرنا خوشبودار چیز ہے اور کہنا ایک مکر وہ چیز ہے ) 1140 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ لدھیانہ کا واقعہ ہے کہ بارش ہو کر تھی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر سیر کو جارہے تھے۔میاں چراغ جو اس وقت لڑکا تھا اور بہت شوخ تھا۔چلتے چلتے گر پڑا۔میں نے کہا اچھا ہوا۔یہ بڑا شریر ہے۔حضرت صاحب نے چپکے سے فرمایا کہ بڑے بھی گر جاتے ہیں۔یہ سن کر میرے تو ہوش گم ہو گئے اور بمشکل وہ سیر طے کر کے واپسی پر اُسی وقت اندر گیا جبکہ حضور واپس آکر بیٹھے ہی تھے۔میں نے کہا حضور میرا قصور معاف فرمائیں۔میرے آنسو جاری تھے۔حضور فرمانے لگے کہ آپ کو تو ہم نے نہیں کہا۔آپ تو ہمارے ساتھ ہیں۔1141 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میر عباس علی صاحب لدھیانوی بہت پرانے معتقد تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اصطلاح صوفیاء میں معنے دریافت کرتے رہتے تھے۔اور تصوف کے مسائل پوچھتے تھے۔اس بارہ میں حضرت