سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 111
سیرت المہدی 111 حصہ چہارم 66 صاحب نے کئی مبسوط خطوط انہیں لکھے تھے جو ایک کتاب میں انہوں نے نقل کر رکھے تھے۔اور بہت سی معلومات ان خطوط میں تھی گویا تصوف کا نچوڑ تھا۔میر عباس علی صاحب کا قول تھا کہ انہوں نے بے وضو کوئی خط نقل نہیں کیا۔حضرت صاحب نے براہین احمدیہ کے بہت سے نسخے میر صاحب کو بھیجے تھے اور لکھا تھا کہ یہ کوئی خرید وفروخت کا معاملہ نہیں۔آپ اپنے دوستوں کو دے سکتے ہیں۔چونکہ میرا ان سے پرانا تعلق تھا۔میں اُن سے وہ خطوط والی کتاب دیکھنے کو لے آیا۔ابھی وہ کتاب میرے پاس ہی تھی کہ میر صاحب مرتد ہو گئے۔اس کے بعد کتاب مذکور کا انہوں نے مجھ سے مطالبہ کیا۔میں نے نہ بھیجی۔پھر انہوں نے حضرت صاحب سے میری شکایت کی کہ کتاب نہیں دیتا۔حضرت صاحب نے مجھے لکھا کہ آپ ان کی کتاب ان کو واپس کر دیں۔میں خاموش ہو گیا۔پھر دوبارہ میر صاحب نے شکایت کی۔اور مجھے دوبارہ حضور نے لکھا۔اُن دنوں ان کے ارتداد کی وجہ سے الہام أَصْلُهَا ثَابِتْ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ “ پر مخالفین بہت اعتراض کرتے تھے۔میں قادیان گیا۔مولوی عبد اللہ سنوری صاحب کی موجودگی میں حضور نے مجھے فرمایا کہ آپ اُن کی کتاب کیوں نہیں دیتے۔مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم نے عرض کی کہ حضور کی ضمانت پر تو اُس نے کتاب نہیں دی تھی ( بعض دفعہ عبد اللہ سنوری صاحب اور میں حضرت صاحب سے اس طرح بے تکلف باتیں کر لیا کرتے تھے۔جس طرح دوست دوست سے کر لیتا ہے اور حضور ہنستے رہتے ) اور میں نے عرض کی کہ اتنا ذخیره عرفان و معرفت کا اس کتاب کے اندر ہے، میں کس طرح اسے واپس کر دوں۔حضور نے فرمایا واپس کرنی چاہئے۔آپ جانیں وہ جانیں۔اس کے بعد میں کپورتھلہ آیا۔ایک دن وہ کتاب میں دیکھ رہا تھا تو اس میں ایک خط عباس علی کے نام حضرت صاحب کا عباس علی کے قلم سے نقل کردہ موجود تھا۔جس میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کسی وقت مرتد ہو جائیں گے۔آپ کثرت سے تو بہ واستغفار کریں اور مجھ سے ملاقات کریں۔جب یہ خط میں نے پڑھا تو میں فوراً قادیان چلا گیا۔اور حضور کے سامنے وہ عبارت نقل کرده عباس علی پیش کی۔فرمایا ! یہی سر تھا جو آپ کتاب واپس نہیں کرتے تھے۔پھر وہ کتاب شیخ یعقوب علی صاحب نے مجھ سے لے لی۔(1142 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ