سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 3
سیرت المہدی 3 حصہ چہارم فرداً فرداً حضرت اقدس نے ان کو جو دعائیں دی ہیں وہ ازالہ اوہام اور آئینہ کمالات اسلام میں درج ہیں۔ان دعاؤں کی قبولیت سے ہماری جماعت کے ہر فرد نے اپنی زندگی میں بہشت کا نمونہ دیکھ لیا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں فیاض علی صاحب پرانے صحابی تھے۔افسوس ہے کہ اس وقت (۱۹۴۹ء) میں وہ اور منشی عبدالرحمن صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب سب فوت ہو چکے ہیں۔1980 بسم الله الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاکسار کو دعا دی تھی ”اے خدا تو اس کے اندر ہو کر ظاہر ہو۔(ملاحظہ ہوازالہ اوہام ) اس سے پیشتر میں قطعی بے اولا دتھا۔شادی کو چودہ سال گذر چکے تھے۔دوسری شادی کی۔وہ بیوی بھی بغیر اولاد نرینہ کے فوت ہوگئی۔تیسری شادی کی۔اُس سے پے در پے خدا نے چار لڑکے اور دولڑکیاں عطا کیں۔ایک لڑکا چھوٹی عمر میں فوت ہو گیا۔تین لڑکے اور لڑکیاں اس وقت زندہ موجود ہیں۔اُن میں سے ہر ایک خدا کے فضل سے خوش حال و خوش و خرم ہے۔لڑکیاں صاحب اقبال گھر بیاہی گئیں۔ان میں سے ہر ایک احمدیت کا دلدادہ ہے۔بڑا لڑکا مختار احمد ایم اے۔بی۔ٹی سرشتہ تعلیم دہلی میں سپرنٹنڈنٹ ہے۔دوسرالڑکا شار احمد بی اے، ایل ایل بی ضلع شاہجہان پور میں وکالت کرتا ہے۔تیسر الڑ کا رشید احمد بی۔ایس۔سی پاس ہے اور قانون کا پرائیویٹ امتحان پاس کر چکا ہے۔اور اس وقت ایم۔ایس سی کے فائنل کے امتحان میں ہے۔1981 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے ایک لڑکے کو مرگی کا عارضہ ہو گیا تھا۔بہت کچھ علاج کرایا مگر ہر ایک جگہ سے مایوسی ہوئی۔قادیان میں مولانا حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اول کی خدمت میں بھی مع اس کی والدہ کے لڑکے کو بھیجا گیا مگر فائدہ نہ ہوا۔اور اس کی والدہ مایوس ہو کر گھر واپس آنے لگی۔اس وقت حضرت ام المومنین کے مکان میں اُن کا قیام تھا۔حضرت ام المومنین نے لڑکے کی والدہ سے فرمایا۔ٹھہر و ہم دعا کریں گے۔چنانچہ حضور دام اقبالھا قریب دو گھنٹہ بچہ کی صحت کے واسطے سر بسجود رہیں۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔رات کولڑکے نے خواب میں دیکھا۔کہ چاندنی رات ہے اور میں دورہ مرگی میں مبتلا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیت الدعا کی کھڑکی سے تشریف لائے اور مجھ کو دیکھ کر دریافت کیا کہ تیرا کیا حال ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور