سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 87
سیرت المہدی 87 حصہ اوّل آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں اور چہرہ اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔پھر آپ نے فرمایا میں کیا کروں میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہنے کو تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔پھر آپ محبت الہی پر تقریر فرمانے لگ گئے اور قریباً نصف گھنٹہ تک جوش کے ساتھ بولتے رہے لیکن پھر یکلخت بولتے بولتے آپ کو ابکائی آئی اور ساتھ ہی تھے ہوئی جو خالص خون کی تھی جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا۔حضرت نے قے سے سر اٹھا کر رومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں جو قے کی وجہ سے پانی لے آئی تھیں۔مگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ قے میں کیا نکلا ہے کیونکہ آپ نے یکلخت جھک کرقے کی اور پھر سر اٹھالیا۔مگر میں اس کے دیکھنے کے لئے جھکا تو حضور نے فرمایا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا حضور قے میں خون نکلا ہے۔تب حضور نے اس کی طرف دیکھا۔پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے سب لوگ کمرے میں آگئے اور ڈاکٹر کو بلوایا گیا۔ڈاکٹر انگریز تھا۔وہ آیا اور قے دیکھ کر خواجہ صاحب کے ساتھ انگریزی میں باتیں کرتا رہا جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بڑھاپے کی عمر میں اس طرح خون کی قے آنا خطر ناک ہے۔پھر اس نے کہا کہ یہ آرام کیوں نہیں کرتے؟ خواجہ صاحب نے کہا آرام کس طرح کریں مجسٹریٹ صاحب قریب قریب کی پیشیاں ڈال کر تنگ کرتے ہیں حالانکہ معمولی مقدمہ ہے جو یونہی طے ہو سکتا ہے۔اس نے کہا اس وقت آرام ضروری ہے میں سرٹیفکیٹ لکھ دیتا ہوں۔کتنے عرصہ کیلئے سرٹیفکیٹ چاہئیے ؟ پھر خود ہی کہنے لگا میرے خیال میں دو مہینے آرام کرنا چاہیئے۔خواجہ صاحب نے کہا کہ فی الحال ایک مہینہ کافی ہوگا۔اس نے فوراً ایک مہینے کیلئے سرٹیفکیٹ لکھ دیا اور لکھا کہ اس عرصہ میں میں ان کو کچہری میں پیش ہونے کے قابل نہیں سمجھتا۔اس کے بعد حضرت صاحب نے واپسی کا حکم دیا۔مگر ہم سب ڈرتے تھے کہ اب کہیں کوئی نیا مقدمہ نہ شروع ہو جاوے۔کیونکہ دوسرے دن پیشی تھی اور حضور گورداسپور آ کر بغیر عدالت کی اجازت کے واپس جارہے تھے مگر حضرت صاحب کے چہرہ پر بالکل اطمینان تھا چنانچہ ہم سب قادیان چلے آئے۔بعد میں ہم نے سنا کہ مجسٹریٹ نے سرٹیفکیٹ پر بڑی جرح کی اور بہت تلملایا اور ڈاکٹر کو شہادت کے لئے بلایا مگر اس انگریز ڈاکٹر نے کہا کہ میرا سر ٹیفکیٹ بالکل درست ہے اور میں اپنے فن کا ماہر ہوں اس پر میرے