سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 86 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 86

سیرت المہدی 86 حصہ اوّل نے بیان کیا کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا تو ہم سب بھی سخت خوف زدہ ہو گئے اور فیصلہ کیا کہ اسی وقت قادیان کوئی آدمی روانہ کر دیا جاوے جو حضرت صاحب کو یہ واقعات سناوے۔رات ہو چکی تھی ہم نے یکہ تلاش کیا اور گوگئی یکے موجود تھے مگر مخالفت کا اتنا جوش تھا کہ کوئی بیگہ نہ ملتا تھا ہم نے چار گنے کرایہ دینا کیا مگر کوئی یکہ والا راضی نہ ہوا آخر ہم نے شیخ حامد علی اور عبدالرحیم باور چی اور ایک تیسرے شخص کو قادیان پیدل روانہ کیا۔وہ صبح کی نماز کے وقت قادیان پہنچے اور حضرت صاحب سے مختصر اعرض کیا حضور نے بے پروائی سے فرمایا خیر ہم بٹالہ چلتے ہیں خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب لاہور سے واپس آتے ہوئے وہاں ہم کو ملیں گے ان سے ذکر کریں گے اور وہاں پتہ لگ جائے گا کہ تبدیل مقدمہ کی کوشش کا کیا نتیجہ ہوا۔چنانچہ اسی دن حضور بٹالہ آگئے۔گاڑی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب بھی مل گئے انہوں نے خبر دی کہ تبدیل مقدمہ کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔پھر حضرت صاحب گورداسپور چلے آئے اور راستہ میں خواجہ صاحب اور مولوی صاحب کو اس واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں دی۔جب آپ گورداسپور مکان پر پہنچے تو حسب عادت الگ کمرے میں چار پائی پر جالیے مگر اس وقت ہمارے بدن کے رونگٹے کھڑے تھے کہ اب کیا ہوگا۔حضور نے تھوڑی دیر کے بعد مجھے بلایا۔میں گیا اس وقت حضرت صاحب نے اپنے دونوں ہاتھوں کے پنجے ملا کر اپنے سر کے نیچے دیئے ہوئے تھے اور چت لیٹے ہوئے تھے۔میرے جانے پر ایک پہلو پر ہو کر کہنی کے بل اپنی ہتھیلی پر سر کا سہارا دے کر لیٹ گئے اور مجھ سے فرمایا میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ وہ سارا واقعہ سنوں کہ کیا ہے۔اس وقت کمرے میں کوئی اور آدمی نہیں تھا صرف دروازے پر میاں شادی خان کھڑے تھے۔میں نے سارا قصہ سنایا کہ کس طرح ہم نے یہاں آکر ڈاکٹر اسماعیل خان صاحب کو روتے ہوئے پایا پھر کس طرح ڈاکٹر صاحب نے منشی محمد حسین کے آنے کا واقعہ سنایا اور پھر محمد حسین نے کیا واقعہ سنایا۔حضور خاموشی سے سنتے رہے جب میں شکار کے لفظ پر پہنچا تو یکلخت حضرت صاحب اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کی آنکھیں چمک اُٹھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا میں اس کا شکار ہوں ! میں شکار نہیں ہوں میں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا شیر۔وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ ایسا کر کے تو دیکھے۔یہ الفاظ کہتے ہوئے آپ کی آواز اتنی بلند ہوگئی کہ کمرے کے باہر بھی سب لوگ چونک اٹھے اور حیرت کے ساتھ ادھر متوجہ ہو گئے مگر کمرے کے اندر کوئی نہیں آیا۔حضور نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دہرائے اور اس وقت آپ کی